اردوئے معلیٰ

کونین میں ہے سیـدِ ابرار کی رونق

سرکار کے ہونے سے ہے سنسار کی رونق

 

جگمگ ہیں فلک پر جو قمر اور ستارے

بخشی ہے انہیں آپ نے انوار کی رونق

 

کس درجہ حسیں کوئے نبی کے ہیں نظارے

ہے دل کا سکوں گنبد و مینار کی رونق

 

وہ جالی سنہری وہ حسیں منبر و محراب

کرنوں سے مزین در و دیوار کی رونق

 

ہر وقت دُرودوں کی سلاموں کی صدائیں

منگتوں سے بھرے کوچۂ سرکار کی رونق

 

دیکھی نہیں دنیا کے کسی باغ میں اے ناز

دیکھی ہے مدینے کے جو گلزار کی رونق

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ