کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

گاڑی فراٹے بھرتی جارہی ہے ۔ جب آپ سفر میں ہوتے ہیں تو تیزی سے منزل کی طرف رواں ہوتے ہیں ۔۔۔ بہت سے مقامات ‘ کردار افراد پیچھے رہتے جاتے ہیں
ذہن کے پردے پہ یادوں کی ریل چلتی ہے اور آوازوں کی باز گشت دل کے سبھی تاروں کو چھیڑ دیتی ہے ۔
چیڑھ کے درختوں کی مہک حواس سلب کیے دیتی ہے ۔ ہوا میں شدید خنکی کا احساس ہے ۔ اکتوبر آئے تو ٹھنڈ کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں ۔ لیکن اس پہاڑی علاقے میں ٹھنڈ شدت اختیار کر چکی ہوتی ہے ۔ سردی سے دانت کپکپاۓ تو یادآیا گرم شال تو لی ہی نہیں۔
ہمیشہ سب کچھ گھر بھول کے جایا کرتی تھی ۔ لیکن وہ یاددلاتے یہاں موسم اچھا نہیں تم بیمار پڑجاتی ہو نا سردی میں اپنی شال لیتی آنا ۔ دوا لے لینا ۔
اور جانے سے ایک رات پہلے بخار کی شدت نے طبیعت کو چڑچڑا کر رکھا تھا ۔
صاحب نے دلجوئی کی دوا کھا لو ۔ ہم نےناک بھوں چڑھائی ۔ وہ بھی ناراض ہو گئے آپ خیال تو رکھتی نہیں پھر کہتی ہیں بیمار ہو گئیں ۔
ہم نے تو کبھی خیال نہیں رکھا تھا ۔ دوا کے بھی چور تھے اور ٹسوے بھی بہایا کرتے ۔
ناک بہہ رہی ہے ۔ وہ کہتے دوا لے لو۔ ہم کہتے آئس کریم کھانی ہے۔ کبھی منع ہی نہیں کیا کہ نہیں اور بیمارہو جاؤگی ۔
آئس کریم کھا کے پھر رونا دھونا اب یخنی پلائی جائے ۔ اماں بنا دیتیں ۔ دونوں نے کبھی شکوہ نہ کیا کہ کس مشکل بچے سے پالاپڑا ہے ۔
اور اب برآمدے میں دھری انکی راکنگ چئیر پہ بیٹھے سامنے موجود سب سےاونچے پہاڑ پہ نگاہ ڈالی ۔ تو یادآیا ‘ کہا کرتے تھے
” جہاں بھی جانا میری پیاری ! یاد رکھنا تمھارے والد ان پہاڑوں سے تم سب کے لیے نکلے تھے ۔ لیکن یہ پہاڑ انکے اندربستے ہیں ۔ ہمیں یہیں لوٹ کے آنا ہے ۔
اسی گھر کے عقب میں جہاں وہ راکنگ چئیر پہ بیٹھی پہاڑ کو تکتی تھی وہ ابدی نیند سوئے ہوئے تھے۔
کتنا سکوت اور کتنا سکون تھا ۔
بابا میں جب مرونگی تو مجھے ایچ ٹین کے قبرستان میں دفن ہونا ہے ۔
وہ ہنستے ‘ کہا کرتے جیسے تم چاہو ۔
اور اب انکی قبر کے بائیں طرف انکی سب سے چھوٹی بہن اپنے والد کے پہلو میں دفن تھیں ۔ باپ اور بیٹی ایک ساتھ۔
تو قبروں کی تعداد گنتے اس نے اپنی والدہ سے کہا
بابا کے پہلو میں جو جگہ ہے وہاں اسکی قبر بنا دی جائے ۔ جہاں سےوہ دیو قامت پہاڑ دکھائی دیتا ہے ۔ جس کی مثال بابا تب دیتے جب وہ ناک بھوں چڑھا کے رسموں رواجوں کو ماننے سے انکار کر دیتی تھی ۔
وہ اسکا ہرانداز دیکھ کے مسکرا دیتے اور کہتے ابھی تم چھوٹی ہو نا جس دن میں نہیں ہونگا تب ان سب باتوں کی سمجھ آئے گی ۔
اکتوبر کی خنکی فضا میں مزید بڑھ چکی تھی ۔ انکی قبر کے گرد منڈلاتی شہد کی مکھیاں اب اپنے ٹھکانے کی جانب لوٹ کے جارہی تھیں ۔
اور پہاڑوں کے کناروں کو ایک دم شام نے آلیا تھا ۔
جسے قبرستانوں سے ڈر لگا کرتا وہ اب ان سے نہیں ڈرتی تھی ۔ کیسی ہمدم و ہمراز قبریں تھیں ۔ جی چاہتا وہیں بیٹھے وقت کٹ جائے ۔
.وہ مجھے یاد تو نہیں آتے بس اب جب بے کار کی ضد کروں اور رونا دھونامچاؤں تو کوئی ایسا نہ ہوگا جو کہے میری بیٹی اداس ہو تو مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا
انکی بیٹی اتنی اداس ہے ۔ لیکن کوئی ایسا نہیں جو پہلی فرصت میں گاڑی لے کے پہنچ آئے ۔ کہ لو تم اداس تھی نا میں اسی لیے آیا ہوں۔
سوچتی ہوں ایک بار دل سے آواز دوں تو کہیں سے انکی صداآئے گی ؟؟؟
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر یونہی تمام ہوتی ہے
کردار
انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
یمین و یسار
سفر (حصہ اول)
میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
سفر (حصہ دوم)
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
چرواہا
پانچویں ملاقات