کیا چاہتی ہے مجھ سے محبت رسول کی

دل سے کروں مدام اطاعت رسول کی

کب ہے یہ بات صرف مسلماں پہ منحصر

کرتے ہیں دل سے غیر بھی عزت رسول کی

مذہب کو اپنے تج کے ہوئے داخل حرم

دیکھی جو کافروں نے مروّت رسول کی

کیا چاہتے ہیں سارے گنہگار کیا کہوں

محشر میں ہو نصیب شفاعت رسول کی

ہوتی نہیں ہے ان کو علائق سے کچھ غرض

رکھتے ہیں اپنے دل میں جو الفت رسول کی

میری بھی آرزو ہے کہ اک روز میں کروں

آنکھوں سے اپنی جا کے زیارت رسول کی

خواہش یہ ہے کہ میری لحد بھی وہیں بنے

موجود جس زمیں پہ ہے حربت رسول کی

بھٹکا نہ ایک پل کو بھی وہ راہ سے کبھی

جس کو ملی جہاں میں ہدایت رسول کی

راہی عطا کیا ہے خدا نے جسے شرف

سب امتوں میں صرف ہے اُمّت رسول کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]