ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا

نا شکیبا کو شکیبا نہیں ہونے دے گا

میں گنہگار ہوں لاریب مگر محشر میں

میرا آقا مجھے رسوا نہیں ہونے دے گا

میرا اللہ فقط کام بنائے گا مرا

مجھ کو ناکامِ تمنا نہیں ہونے دے گا

جل رہا ہے یہاں تہذیب کا مصطفوٰی چراغ

جو زمانے میں اندھیرا نہیں ہونے دے گا

میں ہوں دیوانہِ محبوبِ خدا دیدہ ورد

یہ جنوں اور کسی کا نہیں ہونے دے گا

ایک قطرے کو ہے معلوم حقیقت اپنی

ظرف اس کا اسے دریا نہیں ہونے دے گا

ابرِرحمت ہے جو ہر سمت برستا جائے

باغِ ہستی کو وہ صحرا نہیں ہونے دے گا

رات دن صّلِ علیٰ میری زباں پر جاری

ذکر اس کا مجھے تنہا نہیں ہونے دے گا

اس کا فیضان کرم مجھ پہ ہے بے حد قیصر

اب وہ محتاج کسی کا نہیں ہونے دے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]