ہر دم مری زبان رہے تر درود سے

ہر دم مری زبان رہے تر درود سے

ہو میری کل حیات معطر درود سے

 

ڈوبا ہوا ہے نور میں ہر لفظ نعت کا

قرطاس یوں ہوا ہے منور درود سے

 

عشقِ نبی میں ڈوب کے پالی حیاتِ نو

بے ذر بھی بن گیا ہے ابو ذرؓ درود سے

 

وہ اور ہونگے پھرتے ہیں جو در بدر مدام

ہم تو سنوارتے ہیں مقدر درود سے

 

محفل سجا کے پہلے حدیثِ کسا پڑھو

مہکے گا پھر تمہارا سدا گھر درود سے

 

جس نے پڑھا وظیفہ محمدؑ کے نام کا

وہ شخص بن گیا ہے قلندر درود سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ