ہم بھی مدینے جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

آقا ہمیں بلائیں گے آج نہیں تو کل سہی

ہم نے تو مان ہی لیا آپ ہیں روح کائنات

لوگ بھی مان جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

عرش کہا ہے خود اسے سرور کائنات نے

دل کو وہ دل بنائیں گے آج نہیں تو کل سہی

ہم سے سوا ہیں بے قرار ان کی محیط رحمتیں

آئیں گے یا بلائیں گے آج نہیں تو کل سہی

ایک امید کی کرن ہیں میرے دل کی دھڑکنیں

خواب میں آ ہی جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

ایک کرم کی ہے دلیل ان کے کرم کا اعتماد

اشک بھی مسکرائیں گے آج نہیں تو کل سہی

ان کا درِ سخا وقار اب بھی کھلا ہوا تو ہے

ہم بھی مراد پائیں گے آج نہیں تو کل سہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]