اردوئے معلیٰ

Search

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا

خاکی تو وہ آدم جد اعلیٰ ہے ہمارا

 

اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں

یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا

 

جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم

اس خاک پہ قرباں دل شیدا ہے ہمارا

 

خم ہو گئی پشتِ فلک اس طعنِ زمیں سے

سن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا

 

اس نے لقب خاک شہنشاہ سے پایا

جو حیدر کرار کہ مولےٰ ہے ہمارا

 

اے مدعیو! خاک کو تم خاک نہ سمجھے

اس خاک میں مدفوں شہ بطحا ہے ہمارا

 

ہے خاک سے تعمیر مزارِ شہ کونین

معمور اسی خاک سے قبلہ ہے ہمارا

 

ہم خاک اڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی

آباد رضا جس پہ مدینہ ہے ہمارا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ