اردوئے معلیٰ

Search

ہوئی ظلم کی انتہا کملی والے

بچا کملی والے، بچا کملی والے

 

غریبوں کی عزت کھلونا بنی ہے

ازل سے امیروں کی گردن تنی ہے

 

کرن کوئی چھوٹی نہیں بے کسوں کو

جہاں روشنی ہے وہیں روشنی ہے

 

نئے چاند سورج اُگا کملی والے

بچا کملی والے، بچا کملی والے

 

یہی ایک فیصد ہیں گھیرے خدائی

اِنھیں کی بدولت ہے ہر جگ ہنسائی

 

ترے نام پر نفرتیں بانتٹے ہیں

دُہائی غریبوں کے رہبر دُہائی

 

غبار ان کے شر کا مٹا کملی والے

بچا کملی والے، بچا کملی والے

 

تجھی کو ہر اک زخم اپنا دکھاوؔں

کسی مقتدر کا نہ احساں اٹھاوؔں

 

مددگار تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا

مدد کے لیے میں تجھی کو بلاوؔں

 

یہی آئی دل سے صدا کملی والے

بچا کملی والے، بچا کملی والے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ