ہو جائے وقف جو شہِ بطحا کی چاہ میں

رہتا ہے عمر بھر وہ خدا کی پناہ میں

رکھے جہاں میں جب مرے سرکار نے قدم

روشن خدا کا دین ہوا گاہ گاہ میں

ممکن کہاں بیاں ہو کمالِ درِ حضور

بنتی ہے سب کی بات اسی بارگاہ میں

موسیٰ بھی تاب لا نہ سکے جس کے حسُن کی

ہے جلوۂ گر وہ نور نبی کی نگاہ میں

حرفِ ثنائے سرورِ کونین کے طفیل

پاتا ہوں اپنے آپ کو طیبہ کی راہ میں

جو شان، مصطفیٰ کے غلاموں سے ہے عیاں

ممکن کہاں وہ بات کسی بادشاہ میں

چمکیں جہاں میں کیوں نہ شب وروز اے عزیز

پنہاں ہے نُورِ صلِ علیٰ مہر ومہ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]