ہے جو روشنی کی تلاش تجھ کو دیارِ شاہِ زمن ﷺ میں آ

ہے جو روشنی کی تلاش تجھ کو دیارِ شاہِ زمن ﷺ میں آ

کہ عزیزؔ شہرِ مُراد کا فقط اک یہی تو ہے راستہ

 

بشری حیات کے واسطے وہی لفظ شمعِ ھدیٰ بنا

جو رسولِ حق ﷺ کی زبان سے سرِ بزم و رزم، ادا ہوا

 

یہی ایک در ہے کہ سنگ و خشت نے جس سے پائی حیاتِ نو

وہی ذرَّہ مہر بنا جو سنگِ درِ رسول ﷺ سے مَس ہوا

 

اُسے زندگی کی نوید ربِّ کریم نے بھی سنائی ہے

جو وفات تک سرِ رزم، سچ کا پہاڑ بن کے کھڑا رہا

 

انہیں ﷺ دے کے خلعتِ زندگی،مرے رب نے خلق کیا جہاں

اِسی اک قبا سے زمیں، زماں کا حسیں لباس بھی بن گیا

 

انہیں ﷺ مان کر بھی انہی ﷺ کے نقشِ قدم سے بُعد کی ہے روش

ہے جو قال،کیا وہی حال ہے ؟ ذرا دل سے پوچھ کے یہ بتا

 

بڑی مشکلوں سے بڑائی اس ﷺ کی قبول کی گئی دہر میں

جو صداقتوں کی گواہی لے کے، صفا پہ محوِ کلام تھا

 

میں صفا کی سمت بڑھا مگر کوئی اور ہی تھی فضا وہاں

کہ تھا رنگِ رسم بھلا مگر، وہ بھی روحِ دیں سے جدا جدا

 

ہے عمارتوں میں تو روشنی پہ دلوں میں نور کا قحط ہے

وہ جومصطفیٰ ﷺ نے ہر ایک دل کو سرِ صفا تھا عطا کیا

 

میں عزیزؔ نعتِ نبی ﷺ میں اپنی ہی کیفیات بیاں کروں

کہ رہِ عمل تو ہے تنگ یاں، پہ درِ سخن ہے کھلا ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا ترا
تیرا مجرم آج حاضر ہو گیا دربار میں
میں کبھی نثر کبھی نظم کی صورت لکھوں
نہ زہد و اتقا پر ہے نہ اعمالِ حسیں پر ہے
ہر درد کی دوا ہے صلَ علیٰ محمد
مرحبا سید مکی مدنی العربی
رسولِ پاک کی سیرت سے روشنی پا کر