یوم پاکستان تیئیس مارچ انیس سو چالیس

میکدے میخوار پیمانے جدا ہونے لگے

بت پرستوں کے صنم خانے جدا ہونے لگے

 

شہر جنگل اور ویرانے جدا ہونے لگے

پیڑ پتے باغ گلخانے جدا ہونے لگے

 

مرحبا انیس سو چالیس کی تیئیس مارچ

اپنی منزل اپنے کاشانے جدا ہونے لگے

 

تھی ابھی ذہنوں میں پاکستان کی قوس قزح

اپنے رنگا رنگ کاشانے جدا ہونے لگے

 

کس طرح ہندوستاں رہتا چراغ مشترک

شمع وحدت کے وہ پروانے جدا ہونے لگے

 

بستر بیمار تھا ہندوستاں اپنے لیے

ان مریضوں کے شفاخانے جدا ہونے لگے

 

جب بڑھا آگے مرے عزم و عمل کا کارواں

ہٹ گئے راہوں سے ویرانے جدا ہونے لگے

 

آگرہ ، جے پور، دہلی، بمبئی کو چھوڑ کر

ایک دستر خوان پر کھانے جدا ہونے لگے

 

اک نئی کشور بسائیں ہم برہمن سے پرے

اپنی بستی سے صنم خانے جدا ہونے لگے

 

جو نخِ زنار سے الجھے رہے صديوں تلک

شیخ کی تسبیح کے دانے جدا ہونے لگے

 

مسجد و محراب و منبر ایک جانب ہو چلے

اک طرف ناموس، بتخانے جدا ہونے لگے

 

بار خاطر تھیں صدائیں ہر طرف ناموس کی

ان صداؤں سے صنم خانے جدا ہونے لگے

 

محفل اغیار سے ہم یوں اٹھے دیوانہ وار

اک ندا آئی کہ فرزانے جدا ہونے لگے

 

ضربِ کاری ہے غلامی عظمت انسان پر

ہم یہی دنیا کو سمجھانے جدا ہونے لگے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ