اردوئے معلیٰ

یہ فضلِ خاص ہے رب العلا کا

یہ فضلِ خاص ہے رب العلا کا

مجھے منگتا بنایا مصطفیٰ کا

 

ملا ہے اس لیے بھی دورِ آخر

نہ ہو منسوخ فرماں مصطفیٰ کا

 

مرے سرکار ہی ختم الرسل ہیں

کوئی ناسخ نہیں قولِ خدا کا

 

بنایا ہی نہیں میرے خدا نے

کوئی ثانی شہِ ہر دو سرا کا

 

مرا سینہ بھی ہو جائے منور

بنے جو نقش تیرے نقشِ پا کا

 

جہاں سجتی نہ ہو محفل نبی کی

نہیں گوشہ کوئی ارض و سما کا

 

ہے اس میں خوئے رحمت بوئے جنت

یہ جھونکا ہے مدینے کی ہوا کا

 

کہاں سے لائیں وہ الفاظ جن سے

ادا ہو حق تری مدح و ثنا کا

 

علی خیبر شکن مشکل کشا بھی

لقب ان کو ملا شیرِ خدا کا

 

ہمیشہ ایک سا انداز دیکھا

ترے دربار میں شاہ و گدا کا

 

کہو شہرِ نبی میں جا کے دیکھے

جسے ارماں ہو رحمت کی گھٹا کا

 

تری خوشبو سے اے گلزارِ طیبہ

معطر ہے بدن بادِ صبا کا

 

مجیبؔ ان کے حصارِ لطف میں ہوں

نہیں ہے خوف طوفانِ بلا کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ