اردوئے معلیٰ

Search

مدحِ سرکارِ زمن جس کے خیالوں میں رہے

اُس کو حق ہے کہ وہ انسان اُجالوں میں رہے

 

اس لیے کرتے ہیں سرکار عطا ، قبلِ سوال

تاکہ سائل کہیں اُلجھا نہ سوالوں میں رہے

 

التجاء آپ سے اِتنی ہے مِرے قاسمِ رزق

آپ کے ہاتھ کی تاثیر نَوالوں میں رہے

 

نعت گوئی میں ہے وہ عارفِ آدابِ ثناء

جو سدا نعت کے مَنصُوص حوالوں میں رہے

 

دیکھ کر حُسنِ شہِ حُسن ہوۓ وہ بھی فدا

زندگی بَھر جو کئی زُہرہ جمالوں میں رہے

 

شُومیِ بَخت اُس آئینِ جہانبانی کو

بھول کر ، مدتوں ، ہم لوگ ، زوالوں میں رہے

 

قسمتِ قلبِ منافق میں نہیں حُبِّ علیؑ

کیسے ممکن ہے کوئی شیر ، شِغالوں میں رہے

 

فخرِ آدمؑ کی کریمی کو گوارا کب ہے ؟

کہ ندیمؔ اُن کا پرستار ملالوں میں رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ