کُھلتے رستے جنگل صحرا جو ہے سب کچھ ان کا ہے

میل کا پتھر پیڑ کا سایہ جو ہے سب کچھ ان کا ہے

ساحل پر سر پھوڑتی موجیں مچھلی موتی مونگا سیپ

رنگ برنگے پتھر دریا جو ہے سب کچھ ان کا ہے

پانی پانی کرتی دھرتی پیاس کا عالم سوکھے ہونٹ

سبز مناظر بادل برکھا جو ہے سب کچھ ان کا ہے

حد نظر تک بہتا پانی رفتہ رفتہ اترتی رات

کشتی ، چپو ، مانجھی ، دریا جو ہے سب کچھ ان کا ہے

روتی آنکھیں بہتے آنسو ان کی باتیں ان کی یاد

چاند ستارے بزم تمنا جو ہے سب کچھ ان کا یے

وہ در وہ جنت کی کیاری ابرِ عطا کی وہ برسات

جالی سنہری گنبد خضرا جو ہے سب کچھ ان کا ہے

سبز لباسی صحن چمن کی کلیاں آنا شاخ بہ شاخ

روش روش پر پھول کا کھلنا جو ہے سب کچھ ان کا ہے

حشر کا میداں جوئے کوثر تاج شفاعت غلماں حور

باغ جنت شاخ طوبی جو ہے سب کچھ ان کا ہے

جس کو میرا گھر کہتے ہیں کیا چھت کیا در کیا دیوار

دہلیز آنگن بام دریچہ جو ہے سب کچھ ان کا ہے

یاور انہیں کے دست کرم نے بھر دئیے میرے سب کھلیان

کھیتی باڑی باغ بغیچہ جو ہے سب کچھ ان کا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]