ہم کہ آدابِ قلم لہجۂ لب جانتے ہیں

مدحتِ سرورِ کونین کا ڈھب جانتے ہیں

مجھ کو منت کشِ فریاد نہ ہونے دیں گے

شاہِ طیبہ مرا مقصودِ طلب جانتے ہیں

جو تری یاد کے مصرف نہیں بننے پاتے

ایسے لمحات کو ہم وجہِ غضب جانتے ہیں

اتنی جرأت ہی کہاں ہے کہ چلیں پاؤں سے

ہم ترے شہر کی گلیوں کا ادب جانتے ہیں

چشمِ سرکار نے دانائی کو بخشا ہے شرف

ہم نے پہلے جو نہ جانا تھا وہ اب جانتے ہیں

ہو کے گزرا ہے جو ہوتا ہے جو آگے ہوگا

ان کو اللہ نے بتایا ہے وہ سب جانتے ہیں

منہ کے بل کعبے میں گرتے ہوئے بت,اے فاضل

میرے آقا کی ولادت کا سبب جانتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]