تنہائیوں میں جب بھی پڑھوں نعت مصطفیٰ

بخشے مجھے عجیب سکون نعت مصطفیٰ

آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر ابل پڑیں

قرطاس دل پہ جب بھی لکھوں نعت مصطفیٰ

عصیاں زدہ ہوں دل میں تمنا ہر گھڑی

پڑھتے ہوئے میں کا ش مروں نعت مصطفیٰ

ہر وقت ان کی یاد کے روشن دیے رہیں

بھیجا کرو درود کہوں نعت مصطفیٰ

اپنے نبی کے نام کی مالا جپا کروں

سب کچھ بھلا کی کہتا رہوں نعت مصطفیٰ

اے کاش زندگی کو وہ لمحہ بھی ہو نصیب

روضے پہ جا کے جب میں پڑھوں نعت مصطفیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]