طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے

شاید نہ دل مضطر پہلو سے نکل جائے

ہر وقت مجھے رضواں طیبہ کا نظارہ ہے

کیسے تری جنت میں دل میرا بہل جائے

تو جانِ تمنا ہے کونین کا مالک ہے

گر تیرا اشارہ ہو تقدیر بدل جائے

آنکھیں ہوں مری پُرنم اور ہاتھ میں جالی ہو

پھر زیست کا یہ سورج اے کاش کہ ڈھل جائے

دل درد کا مسکن ہے اے جانِ مسیحائی

گر مار دے تو ٹھوکر پتھر بھی پگھل جائے

یہ داغ ترے دل میں بے وجہ نہیں نیرؔ

محشر میں کہیں اس کی رحمت نہ مچل جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]