مدحتِ شاہِ مدینہ میں کھلی ہیں آنکھیں

ترجماں دل کی ہمیشہ سے رہی ہیں آنکھیں

جب سے سرکار کی چوکھٹ پر جھکی ہیں آنکھیں

جانبِ خلدِ بریں بھی نہ اٹھی ہیں آنکھیں

کسی پتھر کی تراشیدہ نظر آتی ہیں

اس طرح گنبدِ خضرا پہ جمی ہیں آنکھیں

حرمِ پاک پہ سجدوں سے جبیں روشن ہے

سرمہ خاکِ مدینہ سے سجی ہیں آنکھیں

بے سبب تو نہیں آنکھوں میں حنائی رنگت

رات بھر عطرِ محبت میں بسی ہیں آنکھیں

بابِ جبریل پہ پلکوں کو بچھا رکھا ہے

وقف جاروبی دربار نبی ہیں آنکھیں

آئے گا پردہ بینائی پہ جلوہ ان کا

لطفِ سرکارِ مدینہ پہ لگی ہیں آنکھیں

نامِ سرکار پہ آنسو امنڈ آتے ہیں رشید

اپنے اجداد کی آنکھوں پہ گئی ہیں آنکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]