مر کے اپنی ہی اداؤں پہ اَمر ہو جاؤں

اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں

اُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب

کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں

زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا

اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گوہر ہو جاؤں

میرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں

جس کی آہٹ بھی میں سُن لوں تو خضر ہو جاؤں

اِس قدر عشقِ نبی ہو کہ مٹا دوں خود کو

اِس قدر خوفِ خدا ہو کہ نڈر ہو جاؤں

جو پہنچتی رہے اُن تک جو رہے محوِ طواف

ایسی آواز بنوں، ایسی نظر ہو جاؤں

ضرب دوں خود کو جو اُن سے تو لگوں لاتعداد

وہ جو مجھ میں سے نکل جائیں صفر ہو جاؤں

آرزو اب تو مظفؔر تو جو کوئی ہے تو یہ ہے

جتنا باقی ہوں مدینے میں بسر ہو جاؤں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]