نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں

محمد کی خاکِ قدم چاہتا ہوں

مجھے کام کیا التفاتِ جہاں سے

میں ان کی نگاہِ کرم چاہتا ہوں

بسے ہیں نگاہوں میں گیسو نبی کے

تجھے اس لئے شامِ غم چاہتا ہوں

سجاتا ہوں یوں ان کے جلوؤں سے دل کو

مدینہ قریبِ حرم چاہتا ہوں

ہوئے تھے جو طائف میں میرے نبی پر

وہی میں بھی جو روستم چاہتا ہوں

مدینے کی گلیوں میں کیسے نہ بھٹکوں

میں اپنے جنوں کا بھرم چاہتا ہوں

محمد مجھے بیش ازبیش دیں گے

یہ مانا کہ میں کم سے کم چاہتا ہوں

خدا خود بھی نصرت جسے چاہتا ہوں

میں ان کو خدا کی قسم چاہتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]