چراغ نیند کی محراب تک نہیں آیا
قسم ہے آنکھ میں اک خواب تک نہیں آیا سبھی نے شوقِ شہادت میں سر کٹا دئیے ہیں کوئی بھی جنگ کے اسباب تک نہیں آیا ہمارے عشق سے کیسے ملے جنوں کو فروغ ہمارا عشق تب و تاب تک نہیں آیا ابھی مشیتِ خالق نہیں پڑھی تونے ؟ ابھی تو سورہء احزاب تک نہیں […]