ندانم بیش ازیں عشق از منِ بیدل چہ می خواہد
غریبم، بے نوایم، خانہ ویرانم، پریشانم نہیں جانتا کہ عشق مجھ بیدل سے اِس سے زیادہ اور کیا چاہتا ہے کہ (پہلے ہی اس عشق میں) غریب الوطن (در بدر) ہوں، بے نوا ہوں، خانہ ویراں ہوں، پریشاں ہوں
معلیٰ
غریبم، بے نوایم، خانہ ویرانم، پریشانم نہیں جانتا کہ عشق مجھ بیدل سے اِس سے زیادہ اور کیا چاہتا ہے کہ (پہلے ہی اس عشق میں) غریب الوطن (در بدر) ہوں، بے نوا ہوں، خانہ ویراں ہوں، پریشاں ہوں
بے تو گر یک لحظہ خود را زندہ باور می کنم موت، مجھ غافل کی فہم و فراست پر ابد تک ہنستی رہے گی، اگر میں تیرے بغیر خود کو ایک لمحے کے لیے بھی زندہ خیال کروں تو
کہ ہر جا جنسِ سنگی ہست، باشد دشمنِ مینا تلخ اور درشت الفاظ سے دلوں کے لیے زحمت اور تکلیف مت بن کہ جہاں بھی پتھر کی طرح کی جو بھی چیز ہوتی ہے وہ شیشے کی دشمن ہی ہوتی ہے
آتشِ سوزاں بچشمِ کودکِ ناداں زر است اہلِ دنیا، اپنی کم عقلی اور بے دانشی کی وجہ سے شان و شوکت و عزت و مرتبے و جاہ و جلال کے عاشق ہیں، جیسے کہ نادان بچے کو جلانے والی چمکتی ہوئی آگ بھی سونا ہی نظر آتی ہے
یہ ہماری آخری تصویر ہے موت بھرتی جا رہی ہے اپنے رنگ زندگی مٹتی ہوئی تصویر ہے تم جسے کہتے ہو جسموں کی قطار اصل میں دیوار کی تصویر ہے یار لوگوں سے گلے ملنا ہے کیا کوئی پتّھر ہے کوئی تصویر ہے مٹ گئی تصویر پہلے عشق کی سامنے اب دوسری تصویر ہے جتنی […]
چل اٹھ دلا کہ نئے عشق کا بلاوا ہے اُداسی اپنے تئیں کر رہی ہے مجھ میں قیام یہ زہرِ عشق نہیں عشق کے علاوہ ہے تمام شہر ہے اس کا مرید گر چہ وہ شخص فقیر پیر قلندر ولی نہ باوا ہے مرے چراغ مرے خواب کر قبول اے شخص ترے مزار سے چہرے […]
وقت کٹ جائے غنیمت ہے کٹے جیسا بھی بستیاں لوگ بساتے ہی اجڑ جاتے ہیں زندگی کھیلتی ہے کھیل کبھی ایسا بھی وقت کے دائرے میں گھوم رہے ہیں ایسے دشت کی دھوپ بھی ہم لوگ ہیں اور دریا بھی خون ِ معصوم کی عطرت ہی نہیں اس پہ عیاں حرملہ تیر پہ لکھا ہے […]
یہ غزل ہے منافقین کے نام ایک نعرہ خرد کی حالت میں دن بہ دن بڑھتے جاہلین کے نام خاک کے ساتھ ہو گیا ہوں خاک اور میں کیا کروں زمین کے نام اک طوائف کے جسم پر لکھے ہیں شہر کے سارے صالحین کے نام ضبط کے ضابطے گماں کے سپرد آہیں گریہ لہو […]
سماعتوں پر سکوت کی دستکیں لگاتار ہوں اگر تو زبان کھولو طویل عرصہ گزر گیا ہے اداس آنکھیں لیے خسارے کمارہے ہو بہت کہا تھا نہیں بکیں گے نہیں بکیں گے نہ آںسوؤں کی دکان کھو لو ہنروری سے کٹے ہوئے لوگ ناامیدی پہ روزوشب یہ ڈٹے ہوئے لوگ زمیں نہیں جن سے کھل رہی […]
آگرہ دلّی نہیں کہہ رہا رنگوں کو دیکھ وصف دریاؤں کے گنوانے سے پہلے اے شخص مدحت دشت میں اپنے لکھے مضمون کو دیکھ ایک ایمان بھرے جسم کو ٹھکرا آیا اے مسلمان محبت دل ِ ملعون کو دیکھ ایسا منظر نہیں ہر روز نظر آتا دوست خاک پر لاش کی تصویر بنے خون کو […]