پڑا ہوں میں یہاں اور دل وہیں ہے
الٰہی میں کہیں ہوں وہ کہیں ہے
معلیٰ
الٰہی میں کہیں ہوں وہ کہیں ہے
وطن ہے مجھ پے فدا اور میں فدائے وطن
عدم سے آئے تھے کیا کیا ہم آرزو کرتے
کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا
ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے
مریض عشق و محبت کا تیرے حال یہ ہے
پہروں خیال یار سے باتیں کیا کیے
مژدۂ وصل آج تار میں ہے
دوست جس کے بنو وہ دشمن ہے
دشت میں قیس ملا کوہ میں فرہاد مجھے