دیا وہ جو نہ تھا وہم و گماں میں
بھلا میں اور کیا مانگوں خدا سے
معلیٰ
بھلا میں اور کیا مانگوں خدا سے
دل اپنا مفت دیجیے پھر جی سے جائیے
فقرہ ہے یہ رقیب کا اور جھوٹھ بات ہے
آرزو جی میں ہو وہ جی نہ رہا
یہ پرستان ہے کہ لندن ہے
چین ہے صبر ہے قرار ہے آج
ہم بھی کر لیں گے کوئی تم سا پری رو پیدا
مرا محبوب ایسا نازنیں ہے
ہم اپنے دل میں اسی کو بہار جانتے ہیں
اٹھایا اس نے بیڑا قتل کا کچھ دل میں ٹھانا ہے چبانا پان کا بھی خوں بہانے کا بہانہ ہے