شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے

جہاں تک دیکھتا ہوں روششنی محسوس ہوتی ہے ابھی ٹوٹا نہیں ہے سلسلہ ان کی توجہ کا ابھی تو میری آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے کلیجے سے لگا رکھا ہے غم میں نے شہِ دیں کا کہ اس غم میں حیاتِ دائمی محسوس ہوتی ہے کرم شیوا ہے ان کا وہ کرم فرمائیں گے […]

شفیع الوری یا شفیع الوری

مجھے بخشوا یا شفیع الوری کروں کس سے فریاد اے ادا رس تمہارے سوا یا شفیع الوری کہاں جائے اے شاہ در سے ترے ترا یہ گدا یا شفیع الوری تمہیں بخشوا لو گے اللہ سے مری ہر خطا یا شفیع الوری سہارا ہے ہر دو سرا میں ترا نہیں دوسرا یا شفیع الوری مجھے […]

شاہِ بطحا کا جس پر کرم ہوگیا

دونوں عالم میں وہ محترم ہوگیا آگئی ان کے اَخلاق کی روشنی دور دنیا سے جور و ستم ہوگیا ذکرِ میلادِ سرکار سے خود بخود شورِ باطل زمانے میں کم ہوگیا مرحبا سفرِ معراج کی حکمتیں عرشِ حق ان کے زیرِ قدم ہوگیا بن گیا راحتِ جاں وہ سب کیلئے نعت میں لفظ جو بھی […]

سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا

اُٹھا دو جامِ جم ، لے جاؤ آئینہ سکندر کا وہ جس کے دم قدم سے عظمتِ انسانیت اُبھری چمک اُٹھا ستارہ نوعِ انساں کے مقدّر کا عبودیّت میں جس کو تھا مقامِ عبدہ‘ حاصل سعادت میں جسے رُتبہ ملا محبوبِ داور کا وہ جس کی آنکھ نے نظّارۂ حق یوں کیا ، گویا نظر […]

سرکار اپنا روضۂ انور دکھایئے

ہم درد کے ماروں کو بھی طیبہ بلایئے گزرے ہماری زندگی گنبد کے سائے میں بس ایسی زندگی ہمیں سرکار چاہیے دنیا کی خواہشوں کو مٹا کر قُلوب سے یادِ رسولِ پاک کو دل میں بسایئے ہم کو بھی اے رسولِ خدا رحمتِ جہاں اپنے دیارِ پاک کا منگتا بنایئے جس دم ہو تذکرہ شہِ […]

سر بہ سر مصحفِ انوار کوئی اور نہیں

آپ ہیں آپ ہی سر کار کوئی اور نہیں ہے یہ قرآں سے بھی روشن کہ شہِ دیں جیسا صاحبِ سیرت وکردار کوئی اور نہیں صنعتِ خالقِ کونین میں اے شاہِ امم آپ کی شان کا شہکار کوئی اور نہیں آپ جس منزلِ معراج کو پہنچے آقا ایسی رفعت کا سزا وار کوئی اورنہیں خواہشِ […]

رخشندہ تیرے حسن سے رخسار یقیں ہے

تابندہ ترے عشق سے ایمان کی جبیں ہیں جس میں ہو ترا ذکر وہی بزم ہے رنگیں جسمیں ہو ترا نام وہی بزم حسیں ہے ہر گام ترا ہمقدم گردش گردوں ہر جادہ ترا رہگذر خلد بریں ہے چمکی تھی جو کبھی ترے نقش کف پا سے اب تک وہ زمیں چاند ستاروں کی زمیں […]

ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا

پائیں مرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا یہ چاند یہ سورج یہ ستارے تہہِ افلاک کرتے ہیں طوافِ درِ رحمت تو عجب کیا جب قبر میں پُرسش کے لیے آئیں نکیرین مل جائے بس اک نعت کی مہلت تو عجب کیا جس دم وہ غلاموں کو پکاریں سرِ محشر مجھ پر بھی رہے […]

جبیں میری ہوسنگ در تمہارا یا رسول اللہ

یہی ارماں ہے جینے کا سہارا یا رسول اللہ دکھا دو اپنا چہرہ پیارا یا رسول اللہ خدا کا جیتے جی کرلوں نظارا یا رسول اللہ تمہی ہو بے سہاروں کا سہارا یا رسول اللہ تمہی کو ہر دکھی دل نے پکارا یا رسول اللہ ندامت ہے خطاوں پر مگر نازاں ہو قسمت پر مرے […]