جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ

جبریل بنا بلبل شیدائے مدینہ سینہ ہے مرا روکش صحرائے مدینہ دل ہے جرس محمل لیلائے مدینہ واں کے در و دیوار مرے پیش نظر ہیں اندھیر ہو گر آنکھ سے چھپ جائے مدینہ ہر سنگ میں واں کے شررِ طور ہے پنہاں ہر خشت کو کہئے یدِ بیضائے مدینہ قسمت یہ دکھاتی ہے کہ […]

جانبِ طیبہ سفر کی جب خیر پاتا ہے دل

اپنی خوش بختی پہ کیا کیا ناز فرماتا ہے دل بارگاہِ مصطفیٰ میں پیش کرنے کو سلام ماہی بے آب کی صورت مچل جاتا ہے دل آئینہ ہو کر غمِ عشقِ شہِ کونین کا رنگ وبوئے زندگی کی روح کہلاتا ہے دل لب پہ جب سجتی ہے میرے بزمِ ذکرِ مصطفیٰ خشک ہوجاتی ہیں آنکھیں […]

تجھ سے بچھڑ سکا نہ ترے ساتھ چل سکا

یہ کم نصیب عشق نہ خود کو بدل سکا اَے مہربان رات ، مجھے نرمیوں سے چھُو سو کوششوں کے بعد یہ خورشید ڈھل سکا پتھرا گیا ہے سُوکھ کے دل تیرے چاک پر مٹی رہا ہے اور نہ کُوزے میں ڈھل سکا قربانیاں نہ دی گئیں کیا کیا شعور کی وحشت کا ایک پل […]

بزم توحید سے تبلیغ کا نامہ آیا

کوئی پہنے ہوئے قرآن کا جامہ آیا جس نے اسلام کے پچیدہ مطالب کھولے سر پہ باندھے وہ فضیلت کا عمامہ آیا چشم و مژگاں سے لکھے اس نے ہزاروں دفتر جس کے مکتب میں دولت آئی نہ خامہ آیا شور تکبیر سے صحرائے عرب کانپ اٹھا اس جلالت سے سوئے اہل تہامہ آیا کپکپی […]

اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو

اور یادِ محمد بھی مرے دل میں بسی ہو دو سوزِ بلال آقا ملے دردِ رضا سا سرکار عطا عشق اویس قرنی ہو اے کاش! میں بن جاؤں مدینے کا مسافر پھر روتی ہوئی طیبہ کو بارات چلی ہو پھر رحمت باری سے چلوں سوئے مدینہ اے کاش! مقدّر سے میسّر وہ گھڑی ہو جب […]

اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول

میروم از خویش ومی آیم بہ سویت یا رسول درکنار قطرہ حیرانم چساں گنجد محیط کرد چوں جا در دل من آرزویت یا رسول کیستی کز ذرہ تا انجم ہمہ محو تواند ہر کرا چشمے بود باشد بہ سویت یا رسول بسکہ مشتاق حدیث دل فریبت بودہ ام بشتوم از پردہ دل گفتگویت یا رسول […]

اے از شعاع روئے تو خورشید تاباں را ضیا

آنی کہ ہستی را شرف بالا تراز عرش عُلا گرچہ بصورت آمدی بعد از ہمہ پیغمبراں اما بمعنی بودہ سر خیل جملہ انبیائ ہر گز نخواندی یک روق خلقے گرفت از تو اسبق انگشت مہ راکرد شق اے خواجہ معجز نما یارانِ تو چار آمدند پاکیزہ کردار آمدند گل ہائے بے خار آمدند از خویش […]

اللہ غنی رتبہ عالی شہِ دیں کا

ہے عرشِ مُعلیّ پہ قدم خاک نشیں کا ہشیار کہ چھٹ جائے نہ دامانِ محمد اس راہ میں بھٹکا تو نہ دنیا کا نہ دیں کا آئینہ قرآن مبیں ہے تری سیرت رحمت ہے ہر اک لفظ ترے ذکرِ حَسیں کا ہوتے نہ اگر وہ تو کوئی چیز نہ ہوتی کونین میں جو کچھ بھی […]

آپ نےاک ہی نظرمیں مجھکوجل تھل کردیا

آپ نے اک ہی نظر میں مجھ کو جل تھل کر دیا مختصر تھا،آپ نے مجھ کو مفصل کر دیا میں ازل سے تھا جہاں کا ایک نقشِ نا تمام آپ نے کس خوبی سے مجھ کو مکمل کر دیا آپکی نظرِ عنایت کا ہی یہ اعجاز ہے میں کہ تھا اک عقدۂ مشکل مجھے […]