حمد ہے بے حد مرے پروردگار

ہے تو ہی معبود تو ہی کردگار حمد ہے خالق ، خداے کارساز تیری بخشش زندگیِ ذی وقار تجھ سے قائم ہیں جہاں کے کا روبار ذرّے ذرّے پر ہے تیرا اختیار نور تیرا ہر جگہ موجود ہے تیرا جلوہ ہر طرف ہے آشکار رنگ و نکہت پھول کو دیتا ہے تو بھیجتا ہے گلستانوں […]

جو عکس جیسا، جہاں رکھ دیا، نہیں بدلا

کہ خواب میں بھی کبھی آئنہ نہیں بدلا تمام عمر محبت کا شہد کھاتے رہے سو تلخیوںنے کبھی ذائقہ نہیں بدلا خرد نے میرے جنوں پر ہزارفتوے دیے مری یہ سوچ ، مرا فلسفہ نہیں بدلا وفا کی راہ گزرتی ہے ہوکے مقتل سے میں جانتا تھا مگرراستہ نہیں بدلا لکھا ہوا تھا لکیروں میں […]

جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی

اس کی قسمت پہ فدا ساری خدائی ہوگی سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی یہ ہَوا کوچہ سرکار سے آئی ہوگی روزِ محشر نہ کوئی اور سہارا ہوگا سب کے ہونٹوں پہ محمد کی دُہائی ہوگی چاند قدموں پہ گرِا ان کا اشارا جو ہوا وقت کیسا تھا وہ جب انگلی اٹھائی […]

جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے

اللہ کی رحت کے آثار نظر آئے منظر ہو بیاں کیسے ، الفاظ نہیں ملتے جس وقت محمد کا دربار نظر آئے بس یاد رہا اتنا سینے سے لگی جالی پھر یاد نہیں کیا کیا انوار نظر آئے دکھ درد کے ماروں کو غم یاد نہیں رہتے جب سامنے آنکھوں کے غم خوار نظر آئے […]

تمھارے شہر کے بازار تک نہیں پہنچا

یہ عشق آخری آزار تک نہیں پہنچا یہ اور بات کہ بیٹھا ہے میرے پہلو میں ابھی بھی تو مرے معیار تک نہیں پہنچا یہ دشت ِ عشق ہے اور اس میں دھوپ کی شدت وہ جانتا ہے جو دیوار تک نہیں پہنچا ہر ایک شخص ہے انجام کا تمنائی سوکوئی مرکزی کردار تک نہیں […]

تمام دہر کے آلام سے نجات ہوئی

حضور آپ کی جب چشمِ التفات ہوئی مجھے تو سلکِ مراتب میں اتنا علم ہے بس خدا کے بعد حبیبِ خدا کی ذات ہوئی صفاتِ باری تعالی کی مظہرِ کامل وہی ہے ذات جو گنجینہء صفات ہوئی جب آئے خیر کی خیرات بانٹنے والے زمانے بھر کی شر انگیزیوں کو مات ہوئی ظہورِ حسنِ رخِ […]

تری ذات سب سے عظیم ہے تری شان جل جلالہٗ

تو ہر اک سے بڑھ کے کریم ہے تری شان جل جلالہٗ تو قدیر ہے تو بصیر ہے ، تو نصیر ہے تو کبیر ہے تو خبیر ہے تو علیم ہے تری شان جل جلالہٗ تو غفور بھی تو شکور بھی ، تو ہی نور بھی تو صبور بھی تو حفیظ ہے تو حلیم ہے […]

بچائیں گے تری ہم آن گنبدِ خضرا

نثار تجھ پہ دل و جان گنبدِ خضرا محبتوں کی علامت ہے ایک عالم میں عقیدتوں کی ہے پہچان گنبدِ خضرا سکون پاتے ہیں تصویر ہی سے اہلِ دل ہمارے درد کا درمان گنبدِ خضرا جو چاہتے ہیں مٹانا زوال ہوگا انھیں رہے گی تیری مگر شان گنبدِخضرا رہیں ہمیشہ سلامت یہی دعا ہے مری […]

بُروں سے بُرا ہوں کرم کیجیے گا

حضور آپ کا ہوں کرم کیجیے گا نصیبوں کا مارا زمانے کے ہاتھوں میں ٹوٹا ہوا ہوں کرم کیجیے گا عمل کوئی میرا نہیں میرے آقا میں یہ جانتا ہوں کہ کرم کیجیے گا جو رُو رُو کے منگتے سبھی مانگتے ہیں وہی مانگتا ہوں کرم کیجیے گا جہاں نامِ نامی سنائی دیا ہے وہیں […]

بس ایک جیسے ملے لوگ بار بار مجھے

کہ تجربہ نہ ہوا کوئی خوشگوار مجھے بہت دنوں سے جو الجھن ہے ، مجھ کو لگتا ہے ملے گا جاں سے گزر کر ہی اب قرار مجھے کسی بھی شے کے مناسب جگہ نہیں کوئی پسند آتا ہے کمرے کا انتشار مجھے میں عمر بھر جسے پلکوں پہ لے کے پھرتا رہا وہ چاند […]