لبِ ازل کی صدا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ

ازل سے قبل بھی تھا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ دلیل کیا ہے کسی ماسوا کے ہونے کی گواہ ساری خدائی خدا کے ہونے کی نوائے کُن کی بنا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ حدِ شعور، سُراغِ بلندی و پستی حصارِ مشرق و مغرب، احاطہِ ہستی مدارِ ارض و سما لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ […]

قطرہ قطرہ لہو پلاتے ہوئے

میں مرا عشق کو بچاتے ہوئے آنکھ آئینے میں گنوا آیا تشنگی عکس کی بجھاتے ہوئے ڈھلتے سائے میں ڈھل گئی آخر دھوپ، سایہ مرا جلاتے ہوئے تیری جانب رہا سفر میرا راستہ اپنا خود بناتے ہوئے غم کی قندیل بھی بجھا آئے ہم ترا ظرف آزماتے ہوئے ہاتھ اس کے بھی جل گئے ہوں […]

فلک کے نظارو زمیں کی بہارو ، سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں

اٹھو غم کے مارو چلو بے سہارو خبر یہ سناؤ حضور آ گئے ہیں انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا وہ سارے رسولوں کا سلطان آیا ارے کج کلاہو ارے بادشاہو نگاہیں جھکاؤ حضور آ گئے ہیں ہوا چار سو رحمتوں کا بسیرا اجالا اجالا سویرا سویرا حلیمہ کو پہنچی خبر آمنہ کی میرے گھر میں […]

عشق سے مجھ کو انحراف نہ تھا

خون لیکن مرا معاف نہ تھا ہم ہنسے تھے کہ لفظ رونے لگے ضبط کا شعر پر غلاف نہ تھا اس نے دیوار پر لکھا تھا مجھے کوئی بھی لفظ صاف صاف نہ تھا دائرے کا تجھے رکھا مرکز یہ مرا عشق تھا ، طواف نہ تھا کہہ دیا اُس نے حالِ دل اک دن […]

دیارِ طیبہ میں دائم جو قربتیں ملتیں

بیان کر نہیں سکتا وہ لذتیں ملتیں مرا وقار تو آقا کی نعت گوئی ہے جو نعت لکھتا نہیں تو، یہ رفعتیں ملتیں؟ انھوں نے رتبہ بڑھایا بہت غلاموں کا نبی نہ آتے تو انساں کو عظمتیں ملتیں؟ انھوں نے دخترِ حوّا کو مرتبہ بخشا نبی نہ آتے تو نسواں کو عصمتیں ملتیں؟ نبی نے […]

دلوں کو رکھتا ہے روشن جمالِ گنبدِ خضرا

رہے شاداب ہر لمحہ خیالِ گنبدِ خضرا ہیں زیرِ سبز گنبد جلوہ فرما سیدِ عالم کوئی بھی لا نہیں سکتا مثالِ گنبدِ خضرا نہ دیکھا تھا تو تھی خواہش کہ دیکھوں روضۂ اطہر جو دیکھا بڑھ گیا شوقِ وصالِ گنبدِ خضرا محافظ ہے خداوندِ جہاں لاریب! جب اُس کا گھٹا سکتا نہیں کوئی کمالِ گنبدِ […]

دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے

جو دیکھے سبھی ان کے قدموں میں پڑے دیکھے سردار دو عالم کی تعظیم کے کیا کہنے مرسل بھی سبھی جن کی راہوں میں کھڑے دیکھے یاد ان کے مدینے کی جب دل میں اتر آئی پلکوں کے کناروں پہ موتی سے جڑے دیکھے محبوب کی مدحت میں ہے تاب سخن کس کو سب اہل […]

دل و دماغ سے اترا نہ کَوملیں لہجہ

مہک رہا ہے ابھی تک وہ عَنبریں لہجہ کہ آپ جیسی کسی اور میں نہیں ہے بات کہ آپ جیسا کسی اور کا نہیں لہجہ پھر اس کے بعد کٹی عمر بدگمانی میں بس ایک بار سنا اس کا بے یقیں لہجہ یہ کس نے کر دیا اُس کو کچھ اور بھی انمول یہ کس […]

خدایا! حاملِ آدابِ بندگی کردے

ہر این آں سے جدا میری زندگی کردے جو کردے خِرمنِ باطل کو راکھ کا تودہ تو اہلِ حق کو وہ نمناک شعلگی کردے فضاے دہر پہ خوں ریزیاں محیط ہوئیں فنا جہان سے یارب درندگی کردے زبانِ حال کی گل کاریاں بڑھیں حد سے عمل سے منسلک اب میری زندگی کردے ہے مست اطلس […]