نبی کے عشق کا دل میں چراغ لے کے چلے

رہِ بہشت کا مثبت سراغ لے کے چلے در اُن کا منبعِ بارانِ لطف و رحمت ہے کرم کی آس پہ ہم بھی ایاغ لے کے چلے حضور چاہیں تو ہر داغ صاف ہو جائے ہم اپنا دامنِ دل داغ داغ لے کے چلے طلسمِ گنبدِ خضریٰ کا کیا اثر کہئے درونِ روح بھی اک […]

میں تو پنجتن کا غلام ہوں

مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے مجھے عشق ہے تو رسول سے میرے منہ سے آئے مہک سدا جو میں نام لوں تیرا بھول سے مجھے عشق آلِ نبی سے ہے مجھے عشق ہے تو بتولؓ سے مجھے عشق ان کی گلی سے ہے مجھے عشق ان کے ہے پھول سے مجھے عشق سرّ […]

میں اپنے شام و سحَر تیرے نام کرتا ہوں

کہ وقت کوئی ہو تُجھ سے کلام کرتا ہوں تِرے حُروف کی رَو رہنمائی کرتی ہے میں زندگی کا سفر یُوں تمام کرتا ہوں تِرے جلو میں حدیں ٹوٹ پُھوٹ جاتی ہیں اَزَل اَبَد سے اُدھر بھی خرام کرتا ہوں تِری نوا میں ہے فردوسِ گوش کی تفسیر تِری حدیث سے حاصلِ دوام کرتا ہوں […]

میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے

کانٹے کی وہ اک نوک جو طیبہ میں پلی ہے جو ان کی گلی ہے وہی دراصل ہے جنت دراصل جو جنت ہے وہی ان کی گلی ہے اے صل علی صاحب معراج کی سیرت جو بات ہے قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہے شاید درِ احمد سے صبا لائی ہو اس کو چہرے پہ […]

میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا

مجھے نا معتبر ، میرا خدا ہونے نہیں دیتا مری فردِ عمل دھو کر مِری اشکِ ندامت سے میری لغزش کو وہ میری خطا ہونے نہیں دیتا عتاب اس کا میرے کردار پر نازل نہیں ہوتا کہ وہ توّاب ہے محشر بپا ہونے نہیں دیتا عطا کچھ اس طرح کرتا ہے وہ افکار کی دولت […]

مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں

کبوتر نعت پڑھتے ہیں نظارے داد دیتے ہیں میں پانی پر جو انگلی سے نبی کا نام لکھتا ہوں مچل کر مجھ کو دریا کے کنارے داد دیتے ہیں یہ کس نے لحن داؤدی میں چھیڑی نعت آقا کی ہوائیں رقص میں ہیں چاند تارے داد دیتے ہیں نبی کا ذکر کرنے کا مزا ہی […]

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے

مدینے میں بہار بے خزاں ہے زمیں جیسے سمٹ کر رہ گئی ہے مرے سر پر مکمل آسماں ہے محمد مصطفیٰ کا نامِ نامی سماعت زا ہے اور تنویرِ جاں ہے بہ جز یزداں، محمد کے علاوہ کوئی رحمت میں اتنا بے کراں ہے؟ اولو الابصار اس پر متفق ہیں محمد ہی تو سرِ کُن […]

محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

محمد مصطفیٰ انوارِ دیں ہیں وہ فضلنا علیٰ بعضِ کی تفسیر وہ اکمل، مستند معیار دیں ہیں ہے ان کا نام انوارِ ہدایت یقیناً مصطفیٰ سرکارِ دیں ہیں محمد دین کے جسمِ مطہرّ صحابہ آپ کے رُخسارِ دیں ہیں ہے ان کے فضل و حکمت کا نتیجہ زمینِ دہر پر گلزارِ دیں ہیں جنہیں دستِ […]

لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں

یہ ہوا یہ فضا کہہ رہی ہے آقا تشریف لائے ہوئے ہیں جن کی خاطر یہ عالم بنایا اپنے گھر جن کو رب نے بلایا اے حلیمہ یہ تیرا مقدر وہ ترے گھر میں آئے ہوئے ہیں کیسے کہہ دوں وہ حاضر نہیں ہیں کیسے مانوں یہ ممکن نہیں ہے اس سے بڑھ کر ثبوت […]

قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں

ہم رہِ عشق میں صدمات سہے جاتے ہیں ہم کو بھی روضئہ اقدس پہ بُلاؤ شاہا ہم شبِ ہجر میں جل جل کے بجھے جاتے ہیں کہکشاں نے تری راہوں کو سجا رکھا ہے چاند تارے ترے قدموں میں بچھے جاتے ہیں تیرے گیسو پہ ہیں قربان گھٹائیں کالی دیکھ کر تجھ کو مہ و […]