نبی کے عشق کا دل میں چراغ لے کے چلے
رہِ بہشت کا مثبت سراغ لے کے چلے در اُن کا منبعِ بارانِ لطف و رحمت ہے کرم کی آس پہ ہم بھی ایاغ لے کے چلے حضور چاہیں تو ہر داغ صاف ہو جائے ہم اپنا دامنِ دل داغ داغ لے کے چلے طلسمِ گنبدِ خضریٰ کا کیا اثر کہئے درونِ روح بھی اک […]