اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے

میں قطرہ وہ ایک سمندر ، نعت کہوں میں کیسے صدیاں بیتیں آج بھی اُس کا ہے گھر گھر اُجیارا روشن روشن نور کا پیکر ، نعت کہوں میں کیسے اُس کا نام جگت کی رحمت ، وہ مصری کا میٹھا پربت میں بہتی ندیا میں کنکر ، نعت کہوں میں کیسے میں کمزور خطا […]

ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہوتو ایسی ہو

ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہو تو ایسی ہو ہمیں رکھتے ہیں نظروں میں عنایت ہو تو ایسی ہو چلا آوٗں مدینے میں میرے سرکار بلوایا کہوں آقا یہ سب سے میں، اجازت ہو تو ایسی ہو سجا کر محفلِ ذکرِ نبی گھر میں بیٹھا ہوں وہ آ جائیں میرے گھر میں زیارت ہو […]

ہم بھی مدینے جائیں گے آج نہیں تو کل سہی

آقا ہمیں بلائیں گے آج نہیں تو کل سہی ہم نے تو مان ہی لیا آپ ہیں روح کائنات لوگ بھی مان جائیں گے آج نہیں تو کل سہی عرش کہا ہے خود اسے سرور کائنات نے دل کو وہ دل بنائیں گے آج نہیں تو کل سہی ہم سے سوا ہیں بے قرار ان […]

کیا چاہتی ہے مجھ سے محبت رسول کی

دل سے کروں مدام اطاعت رسول کی کب ہے یہ بات صرف مسلماں پہ منحصر کرتے ہیں دل سے غیر بھی عزت رسول کی مذہب کو اپنے تج کے ہوئے داخل حرم دیکھی جو کافروں نے مروّت رسول کی کیا چاہتے ہیں سارے گنہگار کیا کہوں محشر میں ہو نصیب شفاعت رسول کی ہوتی نہیں […]

کُھلتے رستے جنگل صحرا جو ہے سب کچھ ان کا ہے

میل کا پتھر پیڑ کا سایہ جو ہے سب کچھ ان کا ہے ساحل پر سر پھوڑتی موجیں مچھلی موتی مونگا سیپ رنگ برنگے پتھر دریا جو ہے سب کچھ ان کا ہے پانی پانی کرتی دھرتی پیاس کا عالم سوکھے ہونٹ سبز مناظر بادل برکھا جو ہے سب کچھ ان کا ہے حد نظر […]

کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا

نزاکت کا، نفاست کا فصاحت کا بلاغت کا شہِ کونین کا دل عہدِ طفلی ہی سے تھا مخزن ریاضت کا، عبادت کا، محبت کا، قناعت کا خدا نے سب سے پہلے کر رکھا تھا خاتمہ شہ پر نبوت کا، رسالت کا، ہدایت کا، شفاعت کا نبی اُمّی نے سکھلایا سبھوں کو قاعدہ آ کر اطاعت […]

کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو

موت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو کبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو آہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو دشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق منہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو روز روشن ہو نہ کیوں کر مری آنکھوں میں سیاہ […]

پہنچے ہیں بابِ خلد پہ کوئے بتاں سے ہم

نازاں ہیں آ گئے ہیں کہاں پر کہاں سے ہم وابستہ دل سے ہو گئے اس آستاں سے ہم جائیں تو کیسے لوٹ کے جائیں یہاں سے ہم تسکینِ قلب راہِ مدینہ میں یوں ملی گزرا کئے ہوں جیسے کسی کہکشاں سے ہم مت پوچھئے کہ اُن کی غلامی میں کیا ملا آزاد ہوگئے ہیں […]

نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے

میں وابستہ ہوں دامانِ نبی سے وہ میرے ہیں میں دیوانہ ہوں اُن کا یہ کہتا پھر رہا ہوں میں سبھی سے مری نسبت ہی سرمایہ ہے میرا یہی پایا ہے میں نے زندگی سے مئے عشقِ نبی سے مست یوں ہوں نہ نکلوں عمر بھر اس بے خودی سے وہی کردینگے کشتی پار میری […]