دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی

بے شک فروغ عرش مُعلاّ ہیں آپ ہی ہر اہل دل کی جان تمنا ہیں آپ ہی میں کیا کہوں کہ فخرِ مسیحا ہیں آپ ہی بدرِ منیر آپ ہیں طیبہ کے بے گماں فضلِ خدا سے نیر بطحا ہیں آپ ہی دل کی نظر سے اپنے جدھر دیکھتا ہوں ہر شئے میں اس جہاں […]

دل بہت بے قرار ہے آقا

آپ کا انتظار ہے آقا آپ کا ذکر ہے سکوں دل کا آپ سے ہی قرار ہے آقا آپ رہبر ہیں آپ ہی منزل سہل اب رہگزار ہے آقا میرا سب کچھ مری غلامی ہے بس یہی افتخار ہے آقا کچھ سہی آپ سے ہوں وابستہ فضلِ پروردگار ہے آقا کیا کہوں آپ سے چھپا […]

دربار رسالت كی كیسی وہ گھڑی ہوگی

حسانؓ كے ہونٹوں پر جب نعت نبی ہوگی بُوبكرؓ و عمرؓ ہوں گے عثمانؓ و علیؓ ہوں گے حسنینؓ كے نانا كی كیا بزم سجی ہو گی كس شوق سے جاتے ہیں عُشاق مدینے كو كیا حاضری قسمت میں اپنی بھی كبھی ہوگی آئے گا بلاوا جب سركار كے روضے كا دل سجدہ كُناں ہو […]

خواب میں زلف کو مکھڑے سے ہٹالے آجا

خواب میں زلف کو مکھڑے سے ہٹا لے آجا بے نقاب آج تو اے گیسووں والے آجا بیکسی پر مری خوں روتے ہیں چھالے آجا راہ میں چھوڑ گئے قافلے والے آجا دم تری دید کو آنکھوں میں لگا رکھا ہے لے رہے ہیں ترے بیمار سنبھالے آجا ہوں سیہ کار مرے عیب کھلے جاتے […]

جو عیسیٰ کی بشارت’ فخرِ آدم ہے سلام اُس پر

وہی جو باعثِ تکوینِ عالم ہے سلام اُس پر فضیلت جس کی نبیوں پر مسلمّ ہے سلام اُس پر جو آخر ہے مگر سب پر مقدّم ہے سلام اُس پر وہ جس سے استوار ہر ربطِ باہم ہے سلام اُس پر وہ جس سے دو جہاں میں امن قائم ہے سلام اُس پر وہ جس […]

جو سب سے پوشیدہ رہ کے سب کو لُبھا رہا ہے

وہی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے جو خیر و شر ہیں اسی نے تخلیق کی ہے اُن کی وہ ابنِ آدم کو اِس طرح آزما رہا ہے جہاں کی نیرنگیوں میں رکھ کر کشش بلا کی پھر اپنے بندے کو اپنی جانب بلا رہا ہے اسی سے دل اضطراب میں بھی سکون […]

جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں

یہ تو کرم ہے انُ کا ورنہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں تو بھی وہیں پہ جا جس در پر سب کی بگڑی بنتی ہے ایک تری تقدیر بنانا ان کیلئے کچھ بات نہیں ذکرِ نبی میں جو دن گزرے وہ دن سب سے بہتر ہیں یادِ نبی میں جو رات گزرے اس سے […]

جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا

سامنے آنکھ کے کب گنبدِ خضرا ہوگا دیکھئے ملتا ہے کب اذنِ حضوری مجھ کو جانے کب میرا سفرِ جانب بطحا ہوگا جو بھی سرکار کے دامن سے ہوا وابستہ وہ کبھی محفلِ دنیا میں نہ رسوا ہوگا کب میں دیکھوں گا وہ روضے کی سنہری جالی کب مقدّر میں مرے وقت سنہرا ہوگا محفلِ […]

تڑپتے مضمحل ہر پل پئے دیدار اچھے ہیں

مسیحا آپ ہو جائیں تو ہم بیمار اچھے ہیں اگر نیرنگیٔ دنیا سے ہیں بیزار اچھے ہیں درِ آقا پہ زیرِ سایۂ دیوار اچھے ہیں ذلیل و خوار جو تھے آج عزّت دار اچھے ہیں بُرے بھی آپ کے ہو کر مرے سرکار اچھے ہیں نظر سے چومتا پھرتا ہوں ہر سو خاکِ طیبہ کو […]

تقدیر سنور جائے سرکار کے قدموں میں

یہ جان اگر جائے سرکار کے قدموں میں اک بار رکھوں اُن کے قدموں میں یہ سر اپنا پھر عمر گذر جائے سرکار کے قدموں میں یہ کیفؔ کی حسرت ہے ڈھل جائے وہ خوشبو میں اور جا کے بکھر جائے سرکار کے قدموں میں