بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت

بنے گی سُرمہ اڑے گی جو رہگزار کی ریت اُٹھی جو مکہ سے رحمت چلی مدینہ تک نسیمِ بادِ بہاری تھی شہسوار کی ریت قدومِ پاکِ نبوّت کی برکتیں ہیں عیاں چمک رہی ہے جو اس طرح کوہسار کی ریت ہے مارمیت سے ثابت یہ دستِ قدرت ہے عدو کی لے گئی بینائی دستِ یار […]

ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق

ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق خاکِ قتیلِ عشق ہو خاکِ دیارِ عشق دلکش ہیں کس قدر یہ حدود و حصارِ عشق عاشق ہے اور کیف و سرور و خمارِ عشق قربان فرطِ شوقِ تصور پہ جائیے ہر دم نگاہِ عشق میں ہے سبزہ زارِ عشق "در راہِ عشق مرحلہء قرب و بعد نیست” […]

اُن کے دربار میں پانے کے لئے آیا ہوں

اپنی تقدیر بنانے کے لئے آیا ہوں وہی رودادِ غمِ عشق سنیں گے میری اپنی روداد سنانے کے لئے آیا ہوں ہے یقیں تشنگیٔ شوق بجھے گی تو یہیں پیاس میں دل کی بجھانے کے لئے آیا ہوں سربلندی مجھے ملنی ہے یہیں ملنی ہے اپنی پیشانی جُھکانے کے لئے آیا ہوں ضبط کرنے کی […]

اُن کی چوکھٹ کو سدا پیشِ نظر رکھا ہے

دل جھکایا ہے جہاں پر وہیں سر رکھا ہے قلبِ مضطر کا سکوں دیدۂ بے چین کا چین درِ آقا کے سوا اور کدھر رکھا ہے میری قسمت ہے کہ مولا نے مری قسمت میں بارہا شہرِ مدینہ کا سفر رکھا ہے شرطِ بخشش درِ سرکار پہ جانا ٹہرا یہیں خالق نے دعاؤں میں اثر […]

امکانِ اوجِ فکر سے اعلیٰ کہوں تجھے

اک ذہنِ نارسا لئے میں کیا کہوں تجھے فضل و عطا کہوں تجھے جود و سخا کہوں رحمت جہانِ کُن کی سراپا کہوں تجھے تیری مثال ہی نہیں کیسے مثال دوں ہر وصف ہر کمال میں یکتا کہوں تجھے تیرے کرم سے عیب ہیں سب کے چھپے ہوئے بے سایہ ستر پوشِ زمانہ کہوں تجھے […]

یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ

یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ خدا كے كرم كا ، اشارہ مدینہ معنبر معنبر فضائیں یہاں كی معطّر معطّر ہے سارا مدینہ بہشتِ بریں كا جو پوچھا كسی نے تو بے ساختہ مَیں پكارا، مدینہ عطا ہی عطا ہے سخا ہی سخا ہے خطا كار كا ہے سہارا مدینہ كبھی بھول كر بھی نہ […]

یہ بالکل حقیقت خدا کی قسم ہے

محمد کی آمد خدا کا کرم ہے زمیں پر ہے زینت فلک پر چمک ہے کہ بزم جہاں میں وہ خیر الامم ہے جسے ان کے در کی غلامی ملی ہے یہ سارا جہاں اس کے زیر قدم ہے مقام نبی ہے کہیں اس سے بڑھ کر نظر میں غلاموں کی لوح و قلم ہے […]

یا رب خلوصِ شوق کو اتنی رسائی دے

دل کے حرم میں شہرِ مدینہ دکھائی دے تنگ آ گئی ہے قیدِ عناصر سے زندگی زنجیر صبح و شام سے مجھ کو رہائی دے ہر بات میں ہوں نامِ محمد کی تابش ہر سانس میں پیامِ محمد سنائی دے مولائے کائنات کی چشمِ کرم تو ہے جو بیکسوں کو طاقتِ خیبر کشائی دے صرف […]

ہیچ ازیں حسرت نمی سوزیم کز بازارِ فیض

اہلِ دل جیبِ مُراد و ما شکم پُر کردہ ایم ہم اس حسرت میں ذرا بھی نہیں جلتے اور کچھ تاسف بھی نہیں کرتے کہ بازارِ فیض سے دل والوں نے تو اپنی مرادوں کی جھولیاں بھر لیں اور ہم نے فقط پیٹ ہی بھرے ہیں