بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
بنے گی سُرمہ اڑے گی جو رہگزار کی ریت اُٹھی جو مکہ سے رحمت چلی مدینہ تک نسیمِ بادِ بہاری تھی شہسوار کی ریت قدومِ پاکِ نبوّت کی برکتیں ہیں عیاں چمک رہی ہے جو اس طرح کوہسار کی ریت ہے مارمیت سے ثابت یہ دستِ قدرت ہے عدو کی لے گئی بینائی دستِ یار […]