گھٹا مہیب بلاؤں کی سر پہ چھائی ہے

دہائی ہے مرے اللہ تری دہائی ہے سمجھ میں بات یہی تجربہ سے آئی ہے صلہ وفا کا زمانے سے، بے وفائی ہے غموں کی دل سے مرے طاقت آزمائی ہے یہ دیکھنا ہے کہ اب کس کی شامت آئی ہے ہنسے نہ گُل نہ کلی کوئی مسکرائی ہے چمن میں شور ہے لیکن بہار […]

کہاں پہ جلوۂ جاناں کا انعکاس نہیں

نگاہ دیکھنے والی ترے ہی پاس نہیں کوئی بھی شکل نہ دیکھی کہ جو اداس نہیں ہوائے گلشنِ ہستی کسی کو راس نہیں بفیضِ عشق میسر نہیں ہے کیا دل کو خلش نہیں کہ نہیں رنج و غم کہ یاس نہیں یہ قولِ اہلِ خرد ہے ہمیں نہیں کہتے سکونِ دل کا مداوا خرد کے […]

کوششِ مسلسل بھی رائیگاں سی لگتی ہے

آرزوئے دل اب تو نیم جاں سی لگتی ہے کچھ مشیتِ یزداں سرگراں سی لگتی ہے یا مری طبیعت ہی بد گماں سی لگتی ہے نغمہ جُو نہ ہو اے دل وقت اب نہیں ایسا ہر گھڑی مجھے دنیا نوحہ خواں سی لگتی ہے جب بھی آئے یہ ظالم ساتھ لے کے ہے جائے موت […]

کفن کو کھول کے صورت دکھائی جاتی ہے

کہ زندگی کی حقیقت بتائی جاتی ہے نگاہ و دل میں وہ سب کے سمائی جاتی ہے ادائے خاص کہ ساقی میں پائی جاتی ہے خموش ہو کے میں سنتا ہوں اہلِ دنیا سے مجھی کو میری کہانی سنائی جاتی ہے مزاجِ دل یہ بدلنا تھا اور نہیں بدلا اگرچہ خوں میں تمنا نہائی جاتی […]

کرم اتنا خدائے قادر و قیوم ہو جائے

ہے جس کی یہ اُسی کی امتِ مرحوم ہو جائے محبت کا یہ جذبہ دل سے گر معدوم ہو جائے نہ جانے پھر بشر کس نام سے موسوم ہو جائے یہ کیا ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے میں بتلا نہیں سکتا کسی سے عشق ہو دل میں تو خود معلوم ہو جائے مجھے قسمت پہ […]

پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپ

سر راہ طلب ملیں گے آپ ان سے پوچھا کہ کب ملیں گے آپ بولے جب جاں بلب ملیں گے آپ دل یہ کہہ کر خبر کو اس کی چلا مجھ کو زندہ نہ اب ملیں گے آپ عرصۂ حشر عید گاہ ہوا سب سے مل لیں گے جب ملیں گے آپ وصل میں بھی […]

وہی بجلیوں کی چشمک، وہی شاخِ آشیانہ

وہی میری زاریاں ہیں، وہی نالۂ شبانہ بہ ادائے والہانہ، کوئی جہدِ مخلصانہ مجھے چاہیے نہ واعظ، یہ کلامِ ناصحانہ مری گردشیں ہیں ساری مرے اپنے ہی عمل سے نہ نوشتۂ مقدر، نہ نوشتۂ زمانہ ابھی سن رہے تھے ہنس کر، ابھی اٹھ گئے بگڑ کر کہ سمجھ گئے بالآخر وہ حقیقتِ فسانہ مرے آگے […]

واقفِ آدابِ محفل بس ہمیں مانے گئے

ان کی محفل میں ہمیں شائستہ گردانے گئے مٹتے مٹتے مٹ گئے راہِ وفا میں لوگ جو بعد والوں میں نشانِ راہ وہ مانے گئے کچھ نقوشِ عہدِ رفتہ خیر سے اب بھی تو ہیں لاکھ بگڑی میری صورت پھر بھی پہچانے گئے دودھ کے مجنوں تو مل جائیں گے اب بھی ہر جگہ خون […]

نہ ٹھہری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میں

تو آ نکلے تڑپ کر ہم تمہارے بے قراروں میں کسی کے عشق میں درد جگر سے دل یہ کہتا ہے ادھر بھی آ نکلنا ہم بھی ہیں امیدواروں میں وہ ماتم بزم شادی ہے تمہاری جس میں شرکت ہو وہ مرنا زندگی ہے تم جہاں ہو سوگواروں میں تعلی سے یہ نفرت ہے کہ […]

نکالو بزم سے تم حاشیہ نشینوں کو

تو ہم بھی جمع کریں پھر تماشہ بینوں کو سمجھ حقیر نہ تو بوریہ نشینوں کو اتار لیتے ہیں یہ عرش کے مکینوں کو کسی طرح بھی وہ اپنا نہ بن سکا اب تک کہ آزما تو لیا ہم نے سو قرینوں کو شریکِ سازشِ دریا جو ناخدا بھی رہے تو موج اٹھ کے ڈبوتی […]