زندگی پائی ہے ان سے لو لگانے کے لیے

دل ملا زیرِ قدم ان کے بچھانے کے لیے اک ہمیں کیا رہ گئے بس آزمانے کے لیے اور دنیا بھی تو ہے تیرے ستانے کے لیے یہ شبِ ہجراں تو آئی ہے نہ جانے کے لیے دوستو آنا مری مٹی اٹھانے کے لیے حرص کی عادت نہ چھوٹی سبحہ گردانی میں بھی دستِ زاہد […]

رنگِ چمن میں اب بھی ہے حسنِ دلبرانہ

دل کی روش ہے لیکن گلشن سے وحشیانہ باران و بادِ صر صر، برقِ تپاں شبانہ سو طرح کے مصائب، اک شاخِ آشیانہ دورِ وصالِ جاناں، دورِ فراقِ جاناں وہ زندگی حقیقت، یہ زندگی فسانہ کیفِ وصال تیرا، دردِ فراق تیرا پیغامِ زندگی وہ، یہ موت کا بہانہ محوِ خرامِ گلشن تجھ کو خبر نہیں […]

دل میں یادِ صنم ارے توبہ

کفر اور در حرم ارے توبہ صبحِ خنداں کو دل ترستا ہے ظلمتِ شامِ غم ارے توبہ مے ہے ساقی ہے ابر ہے لیکن توڑیں توبہ کو ہم ارے توبہ زندگی کیا اسی کو کہتے ہیں غم ہی غم، غم ہی غم ارے توبہ بجھ نہ جائے چراغ یہ دیکھو لو ہے ایماں کی کم […]

دل میں جو خلش پنہاں ہے کہیں، اس کا ہی تو یہ انجام نہیں

دل وقفِ غم و آلام ہوا، اب دل میں خوشی کا نام نہیں مرہونِ حقیقت ہیں اب ہم، باطل سے ہمیں کچھ کام نہیں احسانِ نگاہِ ساقی ہے، اب شغلِ مئے گل فام نہیں احساسِ زیاں تو رکھتے ہیں، لیکن یہ بروئے کار بھی ہو منزل کی طلب ہے دل میں مگر، منزل کی طرف […]

دل تری یاد سے کس رات ہم آغوش نہیں

نیند آتی مجھے کس وقت ہے کچھ ہوش نہیں رندِ شائستہ ہوں میں رندِ بلا نوش نہیں ہیں مرے ہوش بجا تیرے بجا ہوش نہیں شاخِ نخلِ چمنستاں ابھی گل پوش نہیں دیکھنا رنگِ بہاراں کا ابھی جوش نہیں نگہِ ساقیِ گلفام کہ ہے ہوشربا کون ایسا ہے سرِ بزم کہ مدہوش نہیں سحر انگیزی […]

خلش کی بڑھ کے دردِ بیکراں تک بات پہنچی ہے

محبت کی ذرا دیکھیں کہاں تک بات پہنچی ہے نکل کر آہِ دل میری سرِ عرشِ بریں پہنچی درونِ دل سے چل کر آسماں تک بات پہنچی ہے جو منزل تک پہنچ کر اُف پلٹ آیا ہے منزل سے اسی گم کردہ منزل کارواں تک بات پہنچی ہے نگاہیں بار بار اٹھتی ہیں سوئے آسماں […]

خرد کا جامہٴ پارینہ تار تار نہیں

جنونِ عشق ابھی تجھ پہ آشکار نہیں ہمارے ذوقِ طلب میں نہ فرق آئے گا وہ ایک بار کہے یا ہزار بار نہیں بہ طرزِ عام نہیں میری بادہ آشامی رہینِ بادۂ باطل مرا خمار نہیں رہِ طلب کے مصائب بھی عین راحت ہیں گلِ مراد سے وابستہ خار خار نہیں تمہارے وعدوں پہ دل […]

جہاں میں جنسِ وفا کم ہے کالعدم تو نہیں

ہمارے حوصلۂ دل کو یہ بھی کم تو نہیں ہم ایک سانس میں پی جائیں جامِ جم تو نہیں سرشکِ غم ہیں پئیں گے پر ایک دم تو نہیں تمہارے قہر کی خاطر اکیلے ہم تو نہیں نگاہِ مہر بھی ڈالو تمہیں قسم تو نہیں خدا کا گھر ہے مرا دل یہاں صنم تو نہیں […]

جو راہِ حق سے طبیعت کبھی بھٹکتی ہے

مثالِ خار کوئی دل میں شے کھٹکتی ہے جہاں بھی دیکھیے انسانیت سسکتی ہے رُخِ حیات سے حسرت سی اک ٹپکتی ہے جو محوِ خواب تھے دنیا سے ٹھوکریں کھائیں کھلی جو آنکھ تو دنیا ہمیں تھپکتی ہے جو سوچتا ہوں کہ تعمیرِ آشیاں کر لوں معاً خیال میں بجلی سی اک چمکتی ہے اٹھا […]

جذبۂ عشقِ شہِ ہر دو سرا ہے کہ نہیں

دیکھیے دل کو مسلمان ہوا ہے کہ نہیں کون سا زیست میں وہ تلخ مزا ہے کہ نہیں ایسے جینے سے تو مرنا ہی بھلا ہے کہ نہیں میری ہر بات پہ تم نے جو کہا ہے کہ نہیں خود ہی سوچو یہی جھگڑے کی بنا ہے کہ نہیں حوصلہ ہے کہ میں محرومِ بیاں […]