تو اے غافل ابھی محرم نہیں ہے

نشاطِ دل سقوطِ غم نہیں ہے نگاہِ عشق ہی محرم نہیں ہے اشارہ حسن کا مبہم نہیں ہے عذابِ آخرت کو سوچیے کیا عذابِ زندگی کچھ کم نہیں ہے ہجومِ غم سے مشکل سانس لینا یہ جینا موت سے کچھ کم نہیں ہے گناہوں سے مبرّا ہو تو کیوں کر فرشتہ کچھ بنی آدم نہیں […]

بے تابیاں نہیں ہیں کہ رنج و الم نہیں

اِس ایک دل پہ عشق کے کیا کیا کرم نہیں دو دن کی زندگی اسے صدیوں سے کم نہیں وہ کم نصیب ہے جسے توفیقِ غم نہیں دنیا ستم طراز سہی کوئی غم نہیں دنیا سے بھاگ جائیں مگر ایسے ہم نہیں منزل مری جدھر ہے رخِ دل اُدھر کہاں صد حیف مجھ سے دل […]

بہم جو دست و گریباں یہ بھائی بھائی ہے

کبھی تو غور کرے کس کی جگ ہنسائی ہے فغاں ہے لب پہ مری آنکھ بھی بھر آئی ہے غموں سے آہ کہ دل نے شکست کھائی ہے مٹا ہی دے گا زمانہ تمہیں نہ گر جاگے خبر یہ گردشِ لیل و نہار لائی ہے ترے ہی دل میں حرارت نہیں رہی ورنہ وہی ہے […]

بہ ہر پہلو مجھے آٹھوں پہر معلوم ہوتی ہے

محبت کی خلش اب معتبر معلوم ہوتی ہے تقاضے لا الہ کے ہم نفس اُتنے ہی زیادہ ہیں بظاہر بات جتنی مختصر معلوم ہوتی ہے بہ ہر لغزش جھجکتا ہوں، سنبھلتا ہوں، ٹھہرتا ہوں نگہباں رحمتِ خیر البشر معلوم ہوتی ہے خدا بیزاریِ دنیا فزوں تر آئے دن ہے کیوں یہ تہذیبِ فرنگی فتنہ گر […]

بس لا تعلقی کی فضا درمیاں نہ ہو

نا مہرباں سہی تو اگر مہرباں نہ ہو تو شکوۂ جفا سے مرے سرگراں نہ ہو اب جی میں طے کیا ہے کہ منہ میں زباں نہ ہو لوحِ جبیں اٹھائے رکھوں سر پہ کس لیے سر تن پہ کیوں رکھوں جو ترا آستاں نہ ہو حرص و ہوس کی راہ میں اف کارواں چلا […]

باصواب آئے ناصواب آئے

آہِ دل کا مگر جواب آئے سرِ محفل وہ بے نقاب آئے کہنے والوں کو کچھ حجاب آئے بن ترے کوئی شب کہاں گزری تو نہ آیا تو تیرے خواب آئے جمع ہیں اہلِ ذوق و اہلِ صفا ساقیا اب شرابِ ناب آئے بزمِ ہستی میں کون ٹھہرا ہے جو بھی آئے وہ پارکاب آئے […]

آہ کش ہوں نہ لب کشائی ہے

اے محبت تری دہائی ہے جب سے توحید کی پلائی ہے دل پہ مستی عجیب چھائی ہے موت بڑھ کر قریب آئی ہے طولِ ہجراں تری دہائی ہے ذرہ ذرہ سے آشکارا وہ خود نمائی سی خود نمائی ہے ہیں عجب چیز ناصحِ ناداں جب ملے جان ہی چھڑائی ہے حشر میں وہ ہے شافعِ […]

یہ حالت ہو گئی ضبطِ فغاں سے

پھنکا جاتا ہے دل سوزِ نہاں سے بھلا آئے یقیں ہم کو کہاں سے ہمارا ذکر اور ان کی زباں سے گلے مل لوں ذرا عمرِ رواں سے اٹھایا جا رہا ہوں آستاں سے ہوا خونِ تمنا اشک نکلے کہاں کی بات ظاہر ہے کہاں سے اُنھیں مائل کیا میں نے وفا پر کہ تارے […]

یا رہے خاموش یا پھر بات ایمانی کرے

سب کو گرویدہ ترے چہرے کی تابانی کرے پردۂ اخفا میں رہ کر جلوہ سامانی کرے اہلِ دل کے واسطے پیدا پریشانی کرے تلخ گوئی چھوڑ کر بن جائیے شیریں سخن یہ وہ نسخہ ہے کہ پتھر دل کو بھی پانی کرے سوزِ دل بڑھ جائے تو آنکھوں میں آ جاتے ہیں اشک اس کی […]

ہم زیست کے شکاروں کی حسرت نکل گئی

جب زیست خود بھی ہو کے شکارِ اجل گئی اللہ یہ زمانے کو کیا روگ لگ گیا اپنے ہوئے ہیں غیر ہوا کیسی چل گئی کوچہ ہے کس کا صاحبِ کوچہ یہ کون ہے دنیا بہ اشتیاق جہاں سر کے بل گئی کیسی خوشی؟ کہاں کی خوشی؟ اے مرے ندیم صورت ہماری غم ہی کے […]