ساغرِ توحید وہ دے، پیرِ میخانہ مجھے
تا ابد حاصل رہے اک کیفِ رندانہ مجھے نورِ حق رہبر نہ ہوتا گر مجھے سوئے حرم لغزشِ پا لے چلی تھی سوئے میخانہ مجھے فی سبیل اللہ جاں دینے سے مجھ کو کیا گریز لکھ کے دے رکھا ہے جب جنت کا پروانہ مجھے دل کا کاشانہ کہ تھا پہلے جو گلشن آفریں ایک […]