تمہارے نقشِ قدم پر جو کارواں گزرے

بھٹک سکے نہ وہ منزل سے کامراں گزرے کہیں سے اور بھی اب برقِ آسماں گزرے ضرور کیا ہے سرِ شاخ آشیاں گزرے بخیر راہِ محبت سے ہم کہاں گزرے قدم قدم پہ بڑے سخت امتحاں گزرے وہ غم نصیب تھا دنیا میں مَیں کے مرنے پر مری لحد سے جو گزرے وہ نوحہ خواں […]

تعذیب کی ساعت جب آئے کہتے ہیں کہ ٹلنا مشکل ہے

بہتر ہے بدل لو اپنے کو فطرت کا بدلنا مشکل ہے صد حیف بلا کی پستی ہے اب اس سے نکلنا مشکل ہے اب تک تو سنبھلتے آئے تھے اس بار سنبھلنا مشکل ہے میدانِ عمل میں اتریں گر حالات بھی کروٹ لیں شاید اے شیخِ مکرم باتوں سے حالات بدلنا مشکل ہے خود آگ […]

بے سبب کب کسی سے ملتا ہے

خود غرض کام ہی سے ملتا ہے دردِ سر ، سر بسر ہے آقائی کیفِ دل بندگی سے ملتا ہے دین و دنیا میں ہر بلند مقام بس تری پیروی سے ملتا ہے سلسلہ ظاہری ہے یہ جتنا پردۂ غیب ہی سے ملتا ہے دل کو کیفِ تمام و سوزِ مدام جذبۂ عاشقی سے ملتا […]

بہ شکلِ دل ہی تمہیں دل کی جستجو کیا ہے

اسی جگہ پہ یہ دیکھیں لہو لہو کیا ہے خدا کی ذات پہ یہ بحث و گفتگو کیا ہے سمجھ لے اپنی حقیقت کو پہلے تُو کیا ہے گہر بنا ہے چمکتا ہوا یہ خونِ صدف نہیں تو قطرۂ نیساں کی آبرو کیا ہے ہزار عالمِ رنگیں ہیں دل کی دنیا میں مری نگاہ میں […]

بارگاہِ قدس میں یوں عزت افزائی ہوئی

سب فرشتوں کی مرے آگے جبیں سائی ہوئی میرے اعمالِ سیہ کی جب صف آرائی ہوئی حشر میں اٹھی نہ آنکھیں میری شرمائی ہوئی جس قدر بھی غم ہو دل میں عندلیبوں کے ہے کم روٹھ جائے جب گلستاں سے بہار آئی ہوئی مختصر قصہ پرستارانِ مغرب کا ہے یہ اپنے سر لے لیں بلائیں […]

اپنے ایمان و یقیں میں وہ کھرا ہوتا ہے

جو کہ ہر حال میں راضی بہ قضا ہوتا ہے جال میں نفس کے ہر شخص پھنسا ہوتا ہے یہ وہ دشمن، جو سدا دوست نما ہوتا ہے قیدیِ سلسلۂ عمرِ بقا ہوتا ہے مر کے انساں یہ غلط ہے کہ فنا ہوتا ہے منفرد نقش ہے نقاشِ ازل کا ہر فرد پُر نہیں ہوتا […]

ہیں نصف بیاں سینہِ صد چاک کے گھاؤ

مصرع جو اٹھاتے ہو تو آنکھیں بھی اٹھاؤ پس ماندہِ امواجِ تجسس کے جنوں نے تھک ہار کے ڈالا ہے تہہِ آب پڑاؤ اس دور کو معمول ہیں اعجاز تمہارے ائے عہدِ گزشتہ کے تہی دست خداؤ کچھ اور عمل ہو کہ ابھی کچھ نہیں بدلا جادو کی چھڑی اور کسی سمت گھماؤ ہر چند […]

ہو گئے راکھ سبھی خواب شہابی تیرے

ہاتھ کیا آیا بجز خانہ خرابی تیرے وقت مصروفِ ترامیم رہا اور ادھر زرد پڑتے گئے رخسار گلابی تیرے ہم کہ جاں دادہِ یک نانِ جویں تھے ائے دل ہائے کم بخت مگر شوق نوابی تیرے دست کش، جا ، کہ نہیں آج کوئی دستِ طلب مر گئے پیاس کی شدت سے شرابی تیرے عشق […]

ہم پہ واضح ہے، مشرِّح ہے، عیاں ہے زندگی

غیر کی نظروں میں پر اک چیستاں ہے زندگی آسماں پر اور زیرِ آسماں ہے زندگی دیکھتا ہوں میں محیطِ دو جہاں ہے زندگی جس طرف نظریں اٹھاؤ نوحہ خواں ہے زندگی جیسے اک مجموعۂ آہ و فغاں ہے زندگی اک زمانہ ہو گیا صرفِ زیاں ہے زندگی زندگی جس کو کہیں ایسی کہاں ہے […]

ہزار زخم دلِ کم نصیب نے جھیلے

کوئی مذاق نہ تھا عشق بارہا کرنا پھر اس کے بعد بھلے زندگی رہے نہ رہے پھر اس کے بعد بھلا زندگی کا کیا کرنا قصور صرف یہی تھا کہ رقصِ جان کنی ترے فقیر نے سیکھا نہ جابجا کرنا کسی بھی طور سے آغاز ہو کسی شے کا دلِ تباہ کی فطرت ہے انتہا […]