شعر کہنا اختیاری فعل ہو تو ترک ہو

دل کو لاحق ہے ازل سے عارضہ تخلیق کا ضرب کھانے سے جمع ہوتی ہے وحشت اور بھی ہے سخن ممنون ہر تقسیم کا ، تفریق کا کرب سہنے کی عجب توفیق حاصل ہے مجھے اور دل طالب ابھی ہے اور بھی توفیق کا بھید کھلنے پر سوا ہوتی ہے دل کو سنسنی دفعتاً کھلتا […]

سوختہ سر کو نہیں اس بات کا ادراک بھی

چاک کر سکتا ہے یہ دل جسم کی پوشاک بھی یہ سکوں ہے یا سکوتِ مرگ ہے کچھ تو کہو مطمئن سو جاؤں اب میں ، یا کہ اوڑھوں خاک بھی؟ ضبط کی تاریکیوں میں جھلملاتے ہیں ابھی موتیوں سے دانت بھی اور دیدہِ نمناک بھی اک قیامت خیز خوابیدہ جنوں کو چھیڑنا اور پھر […]

سنور کر پھر گئی قسمت اِسی مردِ تن آساں کی

سرِ منزل پہنچ کر گم ہوئی منزل مسلماں کی قسم کھانے کے قابل ہے وہ سیرت ماہِ کنعاں کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں اسی کے چاک داماں کی عجب قصہ ہے دونوں کی پریشانی نہیں جاتی اِدھر قلبِ پریشاں کی، اُدھر زُلفِ پریشاں کی ہمیں معلوم ہے سب کچھ ہمیں کیا اعتبار آئے […]

رہی دیں سے دل کو نہ اب استواری

ہمیں شرمساری سی ہے شرمساری مودّت، محبت، مروت سے عاری نگاہوں سے اترا اب انساں ہماری وفاداریاں اور دنیائے دوں سے یہ کس کی ہوئی ہے جو ہو گی تمہاری سمیٹا ہے دنیا کا سرمایۂ غم عجب ہے غریبوں کی سرمایہ داری وہی شدتِ غم، وہی بے بسی ہے وہی نالۂ دل، وہی آہ و […]

دل کہ ہر خواب سے محروم ہوا چاہتا ہے

ہجر ، اب عمر کا مفہوم ہوا چاہتا ہے حافظے میں یہ مرے نقش بٹھا لو کیونکہ یہ وہ منظر ہے کہ معدوم ہوا چاہتا ہے سانس لینے کو کوئی اور سیارہ ڈھونڈو کرہِ ارض تو مسموم ہوا چاہتا ہے جستجو ، اور معمہ کوئی مانگے دل سے موت کا راز تو معلوم ہوا چاہتا […]

دل ، کہ اک عالمِ تنویم کا معمول ہوا

منتظر ہے کہ ترے اذن سے جاگے، دھڑکے سانس لینے لگے آنچل کے سبھی تار ترے عشق کے لمس سے ملبوس کے دھاگے، دھڑکے رات پہلی ہے پر اسرار جزیرے پہ ابھی اور یہ دل ہے کہ حلقوم سے آگے، دھڑکے

حقیقت جو پوچھو تو یہ زندگانی

فریبِ مسلسل کی لمبی کہانی ابھی اور ہونے دے یہ خون پانی ابھی سے ہے رکھی کہاں کامرانی مجھے تو وہی چاہئے غیر فانی فقیری میں ہے جو شکوہِ کیانی غمِ عشق اندر تو شعلہ بہ دل ہے مگر آنکھ تک آ کے ہے پانی پانی بیانِ غلط کا یقیں آ گیا ہے اسی کو […]

حصارِ دیں سے جواں نسل اُف نکلنے لگی

ہوائے فسق و فجور آہ کیسی چلنے لگی خوشا کہ حالتِ قلبِ حزیں بدلنے لگی ہجومِ غم میں طبیعت مری بہلنے لگی حریمِ ناز میں جب میری دال گلنے لگی حسد کی آگ رقیبوں کے دل میں جلنے لگی وہ ایک ذرہ جو قوت میں ڈھل گیا آخر کرشمہ کار ہوا جب، زمیں دہلنے لگی […]

جُنوں میں دامنوں، جیبوں، گریبانوں پہ کیا گزری

یہ سب دیکھیں کہ دیکھیں تیرے دیوانوں پہ کیا گزری فنا کے ہاتھوں کیسے کیسے انسانوں پہ کیا گزری شہنشاہوں پہ، سلطانوں پہ، خاقانوں پہ کیا گزری ہمارے کعبۂ دل کی ارے ویرانیاں توبہ صنم خانوں میں رونق ہے، صنم خانوں پہ کیا گزری زمانہ کی قسم مجھ کو زمانہ خود ہی شاہد ہے کہ […]

جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی

وہ یاد ہی ہمیں شکر خدا نہیں آتی نکل کے تا بہ لب آہ رسا نہیں آتی کراہتا ہے جو اب دل صدا نہیں آتی ہماری خاک کی مٹی ہے کیا خراب اے چرخ کبھی ادھر کو ادھر کی ہوا نہیں آتی شب وصال کہاں خواب ناز کا موقع تمہاری نیند کو آتے حیا نہیں […]