مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا

جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا دیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوں خود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آبدیدہ کیوں مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں […]

مسخ ہو کر رہ گیا ہر ایک بابِ زندگی

دید کے قابل نہیں اب تو کتابِ زندگی راہِ حق میں جھیل کر دو دن عذابِ زندگی ہو گئے اہلِ محبت کامیابِ زندگی عاشقِ ناکام ہوں یا عاشقانِ با مراد غور اگر کیجے تو دونوں ہی خرابِ زندگی اہلِ دنیا میں رہا میں، گوشۂ صحرا میں تُو میں کہ تُو؟ زاہد بتا، ہے فیض یابِ […]

مری شاکی ہے خود میری فغاں تک

کہ تالو سے نہیں لگتی زباں تک کوئی حسرت ہی لے آئے منا کر مرے روٹھے ہوئے دل کو یہاں تک جگہ کیا درد کی بھی چھین لے گا جگر کا داغ پھیلے گا کہاں تک اثر نالوں میں جو تھا وہ بھی کھویا بہت پچھتائے جا کر آسماں تک فلک تیرے جگر کے داغ […]

مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر

تو یہ بھی مے پہ گرتی ہے کیا ٹوٹ ٹوٹ کر مہندی تھا میرا خون کہ ہوتا جو رائیگاں اک شب کے بعد ہاتھ سے قاتل کے چھوٹ کر پہلا ہی دن تھا ہم کو کیے ترک مے کشی کیا کیا پڑا ہے رات کو مینہ ٹوٹ ٹوٹ کر صبر و قرار لے کے دیا […]

محسنہ

تمہیں محبت کی پیاس تھی نا؟ سو تم نے میرے سخن کی موجوں پہ دھر دیے لب تمہیں بھی عہدِ ریاء میں تسکین کی طلب تھی سو کر لیا اختیار تم نے جنوں کا مذہب تمہیں ستائش کی آرزو تھی سو تم نے میری نگاہِ بے باک پہ لبادے ہٹا دیے ہیں تمہاری بے کیف […]

محبت ان کی، دل میرا، ثنا ان کی، زباں میری

خوشا قسمت جو کٹ جائے یونہی عمرِ رواں میری زمانہ کو خبر ہے جانتا ہے داستاں میری لرز اٹھتا ہے اب بھی سن کے تکبیرِ اذاں میری قلم کر دو مرا سر، کاٹ دو یا پھر زباں میری تمہیں مجبور کرتی ہیں اگر حق گوئیاں میری چراغِ آرزو اب تک بحمد اللہ روشن ہے بجھانے […]

لذتِ کام و دہن سے ماورا مقصود ہے

ائے جنوں ، ایسا بھی کوئی ذائقہ موجود ہے؟ ایک پروازِ تخیل کا نہ ہو گر آسرا تو فقط حدِ نظر تک آسماں محدود ہے خاک کیا آب و ہوا کا جزو ٹھہری ہے کبھی؟ سو یہ پروازیں عبث ہیں ، ڈوبنا بے سود ہے اس قدر الجھے ہیں باہم عمر کے ریشے یہاں شب […]

قافلے یا راستے یا نقشِ پا کچھ بھی نہیں

کرہِ آتش پہ آتش کے سوا کچھ بھی نہیں کیوں الٹ دیجے نہ آخر عمر کی زنبیل کو یوں بھی اس کم بخت میں باقی رہا کچھ بھی نہیں جس کو چھوتا ہے اسے پتھر بنا دیتا ہے دل اور اس کے لمسِ قاتل سے بچا کچھ بھی نہیں کیا تہی دامانیِ امید ہی مقسوم […]

فراق زاد ، اگر آرزو کا بس چلتا

یقین کر تجھے پلکوں سے مورچھل جھلتا رہِ فراق پہ اترے نہ تتلیوں کے قدم تمام عمر رہا بام پر دیا جلتا افق سے کھینچ نہ لیتی سیاہ رات اگر تو آفتاب بھلا آسماں سے کیوں ڈھلتا گنوا سکا ہوں تبھی تو کہ تم میسر تھے کئی برس میں رہا تھا یہ حادثہ پلتا ترے […]

عارضی عمر میں ثباتِ جنوں؟

ہم نے دیکھے ہیں معجزاتِ جنوں ہم کوئی داستاں سناتے ہیں؟ ہم پہ گزری ہے وارداتِ جنوں تیری سادہ دلی بچانے میں بڑھ گئیں اور مشکلاتِ جنوں ہم تمہیں دیر سے ملے یعنی تم نے دیکھی ہیں باقیاتِ جنوں اب نہ ہو مائلِ کرم تو بھی دل ہے راضی بہ التفاتِ جنوں تم نے اک […]