سَیلِ گفتارِ محمد زمزم ومشک وگلاب

سَیلِ گفتارِ محمد زمزم و مشک و گلاب اور وہ لب ہائے گویا ، روشنی ، خوشبو ، حِنا کاروانِ نور و نکہت ان کے سانسوں کی مہک اور وہ کومل سا مکھڑا ، روشنی ، خوشبو ، حِنا ذاتِ ختمِ المرسلین خورشید، عنبر ، تازگی حیدرؓ وحسنینؓ و زہراؓ ، روشنی ، خوشبو ، […]

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے پرواز ہے کام […]

روئے بدر الدجیٰ دیکھتے رہ گئے

چہرہ والضحٰے دیکھتے رہ گئے حسن خیر الوری میں خدا کی قسم ہم جمالِ خدا دیکھتے رہ گئے ہم گناہگار پہنچے درِ پاک پر زاھد دپارسا دیکھتے رہ گئے جالیوں کے قریں بیٹھ کر وجد میں نورِ حق کی ضیا دیکھتے رہ گئے جو سکندر ہوا ان کے دربار سے وہ کرم وہ عطا دیکھتے […]

رات پیاسا تھا میرے لوہو کا

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو فکر ہے اپنے ہر بن مو کا ہے مرے یار کی مسوں کا رشک کشتہ ہوں سبزۂ لب جو کا بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف ہے وظیفہ یہی دعا گو کا میں نے تلوار سے ہرن مارے عشق کر تیری چشم […]

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے یہ پری چہرہ […]

دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو

ادب کا منصبِ اعلیٰ دلائے ایسی مدحت ہو عطا حسنِ ارادت ہو، بصیرت بھی ملے مجھ کو سبق سیرت کا جو ازبر کرائے ایسی مدحت ہو سلیقہ مجھ کو بھی حسنِ بیاں کا دے مرے مولا حریمِ حرف میں خوشبو بسائے ایسی مدحت ہو میں کھو جاتی ہوں اکثر یادِ طیبہ میں‘ مرے مولا رسائی […]

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیمروز آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہ تیرا ہی عکس […]

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں یہی سوز نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں […]

جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا

طالب ہے خدا جس کا وہ انساں نہیں دیکھا قرآن میں اللہ نے تعریف کی ان کی ہے کون جسے ان کا ثناء خواں نہیں دیکھا نفرت ہو جسے ذکرِ شہنشاہِ زمن سے ایسا تو کوئی ہم نے مسلماں نہیں دیکھا جس دل میں نہیں سرورِ عالم کی محبت شاداں نہیں دیکھا اسے شاداں نہیں […]