جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
ہم برے ہی سہی بھلا صاحب سادہ ذہنی میں نکتہ چیں تھے تم اب تو ہیں حرف آشنا صاحب نہ دیا رحم ٹک بتوں کے تئیں کیا کیا ہائے یہ خدا صاحب بندگی ایک اپنی کیا کم ہے اور کچھ تم سے کہیے کیا صاحب مہر افزا ہے منہ تمہارا ہی کچھ غضب تو نہیں […]