کاٹنا تھا محال رات ہمیں

کاٹنی پڑ گئی حیات ہمیں میکدے عشق کے نہ چھٹتے تھے تیرے صدقے ملی نجات ہمیں ہم کہ ذروں سے ہارنے واے اور درپیش کائنات ہمیں کون سمجھا ہے آج تک آخر کون سمجھائے گا یہ بات ہمیں عمر داؤ پہ ایک عمر سے ہے موت ہی آ سکی نہ مات ہمیں اب تردد کی […]

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے بزم ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو ساری بہارِ ہشت خُلد چھوٹا سا عطردان ہے عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گرا غش آ گیا اور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام کان […]

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا بارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا سدرہ […]

آئینہِ خیال شکستہ ضرور ہے

لیکن ترے نقوش سلامت ہیں آج بھی مانا کہ کوئی نام مکمل نہیں رہا کچھ حرف لوحِ دل پہ عبارت ہیں آج بھی ناپید ہو چکے ہیں کنول سرخ رنگ کے لیکن تصورات کی زینت ہیں آج بھی ہے میری شاعری پہ وہ قربان آج بھی میرے سبھی گمان حقیقت ہیں آج بھی

تیرے قصوں کو اساطیر کیا جا سکتا

ہو بہو تو کبھی تحریر کیا جا سکتا پہلے لازم تھا کوئی خواب دکھانا ہم کو تب کسی خواب کو تعبیر کیا جا سکتا ہم کہ رکھ لیتے رہائش ہی گئے لمحوں میں کاش لمحات کو تعمیر کیا جا سکتا رنگ ہی دستِ تخیل کو میسر ہوتے غم کی تجرید کو تصویر کیا جا سکتا […]

کوئی لمحہ کبھی لمحات سے کٹ کر آئے

اب وہ آئے تو روایات سے ہٹ کر آئے دل کی یہ خام خیالی ہے کہ بہلے گا کبھی عشق موسم تو نہیں ہے کہ پلٹ کر آئے تُو فقط تُو تو نہیں تھا ، کہ تری صورت میں دل کی دہلیز پہ افلاک سمٹ کر آئے تھی ہمیں ضبط کی ڈھالیں تو میسر لیکن […]

آخرش لمحہِ موجود سے معدوم ہوئے

ہم کہ اک لمحہِ ناپید میں جینے والے اک مسیحائے گریزاں کا تصور کر کے زخم تادیر سلگتے رہے سینے والے ہم کو آتے ہیں بلاوے کہیں گہرائی سے کب تلک تھام کے رکھیں گے سفینے والے عمرِ بے ربط ، کہ ترتیب سے عاری ٹھہری ہم سے ہوتے ہی نہیں کام قرینے والے ایک […]

ثبت ماتھے پہ نہیں کیا کوئی بوسہ میرے

اور کیا خاک بتاؤں گا جنوں کا باعث ثانیہ ایک ہی گزرا تھا بظاہر ، لیکن بن گیا عمر کی بے خواب شبوں کا باعث ثمرہِ سوزِ محبت ہے مری بے چینی اور کم بخت یہی مجھ کو سکوں کا باعث ثانوی ہے مری تکلیف ، کہ میرا کیا ہے تو بتا پہلے مجھے اپنے […]

دشتِ ویران میں آوازِ جرس باقی ہے

دل کو پھر آگ لگاؤ کہ یہ خس باقی ہے کون سا وصل کرے آ کے مداوا، کہ یہاں جس کو پایا تھا ابھی اس کی ہوس باقی ہے اس قدر کھل کے عنایات کہ کیا ہی کہنے مرگ سیراب ہوئی ہجر میں رس باقی ہے تم عبث دل میں پریشان ہوئے جاتے ہو کوئی […]

راکھ دعووں کی کہیں ، اور کہیں وعدوں کی

آندھیاں خاک اڑاتی ہیں تری یادوں کی ائے شبستانِ محبت کی مہکتی کلیو، کچھ خبر بھی ہے تمہیں خانماں بربادوں کی نوچ ڈالی گئی اوراق سے تحریرِ وفا چپ کرا دی گئی آواز سخن زادوں کی دشت کر ڈالے گئے دل کے محلات سبھی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی بنیادوں کی عہدِ بدذوق کو […]