دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے

بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں کون ان جرموں پہ سزا نہ کرے سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب آہ عیسیٰ اگر دوا نہ کرے دل کہاں لے چلا […]

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی

سب سے بالا و والا ہمارا نبی اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا نورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی جس کو شایاں ہے عرشِ خُدا پر جلوس ہے وہ سلطانِ والا ہمارا نبی بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں شمع وہ لے […]

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ جس کو قُرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو اُن کے خوانِ جود سے ہے ایک نانِ سوختہ ماہِ من یہ نیّرِ محشر کی گرمی تابکے آتشِ عصیاں میں خود جلتی ہے جانِ سوختہ برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اس پر ایک بار آج تک ہے سینۂ […]

اصلاحی نظم

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں تیری گھٹری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا ہائے مسافر دم میں نہ آنا […]

گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے

مُبارک ہو شفاعت کے لیے احمد سا والی ہے قضا حق ہے مگر اس شوق کا اللہ والی ہے جو اُن کی راہ میں جائے وہ جان اللہ والی ہے تِرا قدِ مبارک گلبنِ رحمت کی ڈالی ہے اسے بو کر تِرے رب نے بنا رحمت کی ڈالی ہے تمھاری شرم سے شانِ جلالِ حق […]

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تو ہی والی ہے نہ ہو مایوس آتی ہے صدا گورِ غریباں سے نبی امّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے ارے یہ بھیڑیوں کا بن […]

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے

زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما غضب سے اُن کے خدا بچائے جلالِ باری عتاب میں ہے جلی جلی بو سے اُس کی پیدا ہے سوزشِ عشقِ چشمِ والا کبابِ آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل […]

ائے چشمِ ناشناس ، ترا گلہ ، کہ تو

واقف کہاں رہی تھی جمالِ جنون سے ائے عہدِ ناسپاس ، تجھے کیا کہیں کہ ہم خود بھی دھواں دھواں تھے کمالِ جنون سے ائے وائے انحطاطِ تمنا ، یہ حال ہے ہوتے ہیں شرمسار ، سوالِ جنون سے ہم کہ سوارِ ناقہِ وحشت ہوئے ، سو ہم رستوں میں کھو گئے ہیں زوالِ جنون […]

غرورِ شب کو کھٹکتا تھا اور ہی صورت

وہ بجھ گیا کہ بھڑکتا تھا اور ہی صورت یہ پیار ، پیار نہیں تھا ، جدا کوئی شئے تھی میں تجھ پہ جان چھڑکتا تھا اور ہی صورت قدم تو خیر بگولوں کو پائلیں کرتے مگر جنون بھٹکتا تھا اور ہی صورت یہ زیر و بم جو ہوا ، نسبتاً سکوت ہوا دلِ تباہ […]

آتا نہیں ہے سوچ کے اب تو یقیں کبھی

عریاں بھی ہو چکا ہے وہ خلوت نشیں کبھی ہم نے بھی حالِ دل پہ قناعت قبول کی اس نے بھی دل کو لَوٹ کے پوچھا نہیں کبھی گرنے لگا ہے روز ہی ہاتھوں سے کچھ نہ کچھ نایاب آسمان تو غائب زمیں کبھی ابھرے ہیں نقشِ پاء میں کبھی ہونٹ بن کے ہم متی […]