بازی گران و شعبدہ بازو، نوید ہو

ہم اپنے معجزات کے ہاتھوں فنا ہوئے ہم بے مثال لوگ تھے کیا مارتا کوئی ہم لوگ اپنی ذات کے ہاتھوں فنا ہوئے چھوٹی سی ایک بات رہی تجھ کو اور ہم چھوٹی سی ایک بات کے ہاتھوں فنا ہوئے حیراں کھڑی ہوئی ہے سرہانے پہ موت بھی ہم ہیں کہ جو حیات کے ہاتھوں […]

نا قابلِ شکست بھلا کون رہ سکا

ہم تھے ، ہمارے خواب تھے، پیمان تھے ترے ابھرا ہے نقشِ مرگ سرِ پردہِ شہود اب کون مانتا ہے کہ امکان تھے ترے ہے اک دفعہ کا ذکر کہ ہوتا تھا ایک دل اور اس کے اختیار میں ارمان تھے ترے ہارے رفو گران بصد عجز آخرش اتنے قبائےعشق پہ احسان تھے ترے تو […]

اس قدر سادہ مزاجی بھی مصیبت ہے جہاں

لوگ طنزاً بھی جو ہنستے ہیں ، بھلے لگتے ہیں سجدہ گاہانِ محبت کی زیارت کیسی ہم تو پاپوشِ محبت کے تلے لگتے ہیں جانے کس پشت کا رشتہ ہے کہ پا کر ہم کو درد بے ساختہ بڑھتے ہیں گلے لگتے ہیں آؤ اس لمحہِ کمیاب میں ڈھونڈو ہم کو غم کے آثار سرِ […]

چند لمحے ہی سہی لیکن ملی ہے زندگی

میں چلو فانی ہوا کیا دائمی ہے زندگی اور ہی کچھ مہرباں ہستی ہے دنیا کے لیے یا مرے حصے میں جو آئی وہی ہے زندگی زندگی کو کس قدر حسرت سے تکتا تھا کبھی آج اک حسرت سے جس کو دیکھتی ہے زندگی دیدہ و دل فرشِ راہِ شوق تھے ، مٹی ہوئے اب […]

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

مصطفےٰ ہے مسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں ہوں مسلماں گرچہ ناقص ہی سہی اے کاملو ماہیت پانی کی آخر یم سے نم میں کم نہیں غنچے ما اَوحیٰ کے جو چٹکے دَنیٰ کے باغ میں بلبلِ سدرہ تک اُنکی بُو سے بھی محرم نہیں اُس میں زم زم ہے کہ تھم تھم ، اس […]

ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں

سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں بے نواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحریرِ دست رہ گئیں جو پا کے جودِ یزالی ہاتھ میں کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھا راہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں جودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جویا ہے آپ کیا عجب اڑ کر […]

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں جب آگئی ہیں جوش رحمت پہ ان کی آنکھیں جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہیں ہنسا دیئے ہیں اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا تم نے تو چلتے پھرتے ہیں مردے جلا دیئے ہیں ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو […]

یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

بیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئی پوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں چھوڑ کے اُس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آ بسو پھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لٹ گئی سب کمائی کیوں باغِ عرب کا […]

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں

کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں روحِ قدس سے پوچھئے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گُمیں صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں ہائے رے […]

یاد میں جس کی نہیں ہوش ِتن و جاں ہم کو

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو پھر دکھادے وہ رخ اے مہرِ فروزاں ہم کو دیر سے آپ میں آنا نہیں ملتا ہے ہمیں کیا ہی خور رفتہ کیا جلوہٴِ جاناں ہم کو جس تبسم نے گلستاں پہ گرائی بجلی پھر دکھادے وہ ادائے گلِ خنداں ہم کو کاش آویزہ […]