تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

تو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے افقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا مرغ سب بولتے ہیں بول کے چپ رہتے ہین ہاں اصیل ایک نوا سنج رہے گا تیرا جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے سب ادب رکھتے […]

پاٹ وہ کچھ دھار یہ کچھ زار ہم

یا الٰہی کیوں کر اتریں پار ہم کس بلا کی مے سے ہیں سرشار ہم دن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم تم کرم سے مشتری ہر عیب کے جنسِ نامقبولِ ہر بازار ہم دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم لغزشِ پا کا سہارا ایک تم گرنے والے […]

سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

لب پھول، دہن، پھول، ذقن پھول، بدن پھول صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول اس غنچہ ءِ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول واللہ جو مل جاے مرے گل کا پسینہ مانگے […]

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض

ظلمتِ حشر کو دن کر دے نہارِ عارض میں تو کیا چیز ہوں خود صاحبِ قرآں کو شہا لاکھ مصحف سے پسند آئی بہارِ عارض جیسے قرآن ہے ورد اس گل محبوبی کا یوں ہی قرآں کا وظیفہ ہے وقارِ عارض گرچہ قرآں ہے نہ قرآں کی برابر لیکن کچھ تو ہے جس پہ ہے […]

وہم و گمان رہ گئے ، وجدان رہ گیا

نازل ہوئے شکوک تو ایمان رہ گیا تیری ریاضتوں نے فرشتہ کیا شکار مجھ میں مرے لیے مرا شیطان رہ گیا عہدِ شکست میں مری پہچان رہ گئی عہدِ شکست ہی مری پہچان رہ گیا تو مانگتا ہے میرا حوالہ ثبوت سے میں ہوں کہ اپنے آُپ کا امکان رہ گیا ہارا ادھیڑ بن سے […]

مانا کہ ہے سفر کا تقاضہ سبک روی

پر تیز رو جنون ، تھکا جا رہا ہوں میں اب کون سوچنے کی مشقت کرے بھلا جاؤ مرے فنون ، تھکا جا رہا ہوں میں کاندھوں پہ جو بنامِ محبت دھرا گیا بھاری ہے وہ ستون ، تھکا جا رہا ہوں میں اک عمر ہو چلی ہے کہ زخموں پہ ہاتھ ہے رکتا نہیں […]

عجب تقسیم کر ڈالا ہے تم نے

میں آدھا گر کے بھی آدھا کھڑا ہوں میں آدھا مر چکا ہوں حادثے میں حضورِ زندگی آدھا کھڑا ہوں مرا آدھا بدن تیرے مخالف میں تیرے ساتھ بھی آدھا کھڑا ہوں بنامِ ضبط آدھا ڈھے گیا تھا بحالِ بے بسی آدھا کھڑا ہوں مجھے مسمار آدھا کر گئے تھے پلٹ آؤ ابھی آدھا کھڑا […]

غم کو شکست دیں کہ شکستوں کا غم کریں

ہم بندگانِ عشق عجب مخمصے میں ہیں آزاد کب ہوئے ہیں غلامانِ کم سخن جو طوق تھے گلے میں سو اب بھی گلے میں ہیں تم مل چکے ہو اہلِ ہوس کو، مگر یہ ہم مصروف آج تک بھی تمہیں ڈھونڈنے میں ہیں اک نقشِ آرزو کہ جھلکتا نہیں کہیں یوں تو ہزار عکس ابھی […]

مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات

ائے کاش دستِ غم مرے پرزے اڑا سکے دل کو سگانِ شہرِ ہوس نوچتے رہے سادہ دلانِ عشق فقط مسکرا سکے ائے کاش کہ فصیل بنے کربِ مرگِ دل تو بھی مرے قریب جو آئے نہ آ سکے جادو گرانِ شوق نے کر لی ہے خودکشی کم بخت عمر بھر میں یہ کرتب دکھا سکے […]

آخر غبارِ دشتِ ہزیمت میں ڈھے گئے

عشاقِ کم نصیب تری جستجو میں تھے اب ان کا زکر بھی نہ رہا داستان میں کل جو محاوروں کی طرح گفتگو میں تھے خواہش کے ساتھ ساتھ فراموش ہو گئے جو خوش گمان لوگ تری آرزو میں تھے اک برف سی رواں ہے رگ و پے میں آجکل رقصاں کبھی جنون کے شعلے لہو […]