جنگِ ستمبر 1965ء

وہ موسمِ گرما وہ شبِ ماہِ ستمبر دشمن کے خطرناک عزائم کا وہ منظر جب سرحدِ لاہور میں در آئے تھے چھپ کر مکار و جفا کار و سیہ کار و ستمگر سب بسترِ راحت سے ہم آغوش پڑے تھے دن بھر کے تھکے خواب میں مدہوش پڑے تھے مہتاب جبیں گھر میں ردا پوش […]

کیسے لکھوں نعتِ مزین

ایک یہ دل اور لاکھوں الجھن احمدِ مرسل زینتِ گلشن عالمِ امکاں ان سے معنون دمکے چہرہ جیسے کندن زلفِ معطر رشکِ گلبن آنکھیں دلکش مست ہے چتون قامتِ زیبا سرو گلشن مشک و عنبر ان کا پسینہ حلّہِ جنت جسم کی اترن مکہ ان کی جائے ولادت شہرِ مدینہ ان کا مسکن ان پہ […]

لکھنے بیٹھا ہوں میں نعتِ صاحبِ خلقِ عظیم

دستگیری میری فرما اے مرے ربِ کریم نورِ چشمِ آمنہ بی نامور دُرِ یتیم ہے خلف اس کا کہ جس سے منسلک ذبحِ عظیم وہ سراج الانبیاء، ختم الرسل، سید، زعیم وہ کہ ہے قندیلِ روشن بر صراطِ مستقیم وہ سپہ سالارِ اعظم وہ دلاور وہ جری اس کی سطوت سے دہلتا تھا دلِ فوجِ […]

دید شنید

کتاب میں ہے ذکر کچھ تو دیکھنے میں اور ہے عجیب تجھ پہ وقت ہے عجیب تجھ پہ دور ہے نماز تجھ پہ بار ہے زکوٰة تجھ پہ شاق ہے تو نیکیوں میں سست ہے برائیوں میں چاق ہے دماغ میں غرور ہے خیال میں فتور ہے نگاہ نشہ خیز ہے شراب کا سرور ہے […]

آقائے دوجہاں کی لب پر جو گفتگو ہے

ہے جان و دل معطر ہر سانس مشکبو ہے بلبل میں خوش نوائی پھولوں میں رنگ و بو ہے رونق تمہارے دم سے در بزمِ کاخ و کو ہے حسن و جمال قرباں جس پر ہوئے وہ تو ہے محفل میں خوبروؤں کی سب سے خوبرو ہے یک شمۂ تصنع اس میں نہ کچھ غلو […]

سودائے عشقِ شاہِ مدینہ جو سر میں ہے

ہر خاص و عام جانبِ طیبہ سفر میں ہے دنیائے آب و گل میں وہ آئے تھے صبح دم کیف و سرور و نور یونہی تو سحر میں ہے رطب اللساں ہے خالقِ کونین مرحبا وہ حسنِ خلق اف مرے پیغامبر میں ہے ام الکتاب آپ کی ہے معدنِ حِکَم اک حکمتِ خفی کہ جلی […]

ثنائے پاک لکھنے پر طبیعت میری جب آئی

بیک دم روح و تن میں آ گئی طرفہ توانائی مرے اس خاکداں میں اس نے کی جب جلوہ فرمائی زمیں و آسماں سے اک صدائے مژدہ باد آئی شگوفے مسکرائے گل ہنسے بلبل بھی اترائی وہ کیا آئے گلستاں میں بہارِ جاوداں آئی اسی کے واسطے محفل وَ کارِ محفل آرائی نبوت جس کی […]

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں

ہے واجب اس لئے مجھ پر ثنائے مصطفیٰ لکھوں کرشمہ کاری دستِ ازل سے ذات میں پاؤں مرقع حسن کا ہے قامتِ زیبائے گندم گوں کشادہ لوحِ پیشانی خوشا وہ گیسوئے شبگوں خمِ ابرو ہلال آسا وہ آنکھیں مست و پر افسوں رخِ انور کی تابانی کی میں تمثیل کس سے دوں ضیائے ماہِ گردوں […]

تنظیمِ گلستاں

تنظیمِ گلستاں کی خاطر کیوں اہلِ گلستاں لڑتے ہیں ہے بات خلافِ ایماں یہ کیوں صاحبِ ایماں لڑتے ہیں ہم کیوں نہ کبیدہ خاطر ہوں جب حاملِ قرآں لڑتے ہیں فرمائے خدا ہی رحم ان پر آپس میں مسلماں لڑتے ہیں جب ایک ہی اپنا قبلہ ہے جب ایک ہی چاہِ زمزم ہے جب ایک […]

نعتِ حبیبِ پاک کا مجھ کو مذاق ہے

مجھ پر بھی فضلِ خالقِ نیلی رواق ہے محبوبِ کبریا ہے امام الرسل ہے وہ کیا عزّ و جاہ و منزلت و طمطراق ہے وہ صادق الحدیث، ملقب بہ الامیں دشمن بھی متفق ہیں عجب اتفاق ہے وہ مصحفِ عظیم کہ اترا ہے آپ پر اس میں شفائے دل ہے علاجِ نفاق ہے تخلیقِ کائنات […]