ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں

عکس لرزاں ہے تمہارا خامشی کی جھیل میں میں تمہارے حسن کے عنوان میں ڈوبا ہوا اور تم ڈوبی ہوئی عنوان کی تفصیل میں ہم بکھرتے جا رہے ہیں آرزو کی ریت پر کائناتِ عشق ہے اک عالمِ تکمیل میں سانس کی مالا بکھرتی جا رہی ہو جس طرح وقت سمٹا آ رہا ہے جادوئی […]

تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟

غارت گرِ شعُور ، کہ میں سوچتا بھی ہوں سیراب صرف جسم کے ہونے پہ خوش رہوں؟ میں کیا کروں حضُور ، کہ میں سوچتا بھی ہوں تیرا گِلہ ، کہ سر کو جھکاتا ہوں دیر سے مجھ کو یہی غرور ، کہ میں سوچتا بھی ہوں منظر تراشتا ہوں مناظر سے ماوراء مجھ سے […]

صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے

ندامت بھی ہے ، اپنے رائیگاں جانے کا بھی ڈر ہے مجھے تو منطقی لگتی ہے اپنی بد حواسی بھی مجھے لگتا ہے میں ہوں آئینے میں ، عکس باہر ہے ہزاروں ہی بھنور لپٹے ہوئے ہیں جسم سے لیکن نگاہوں میں ابھی تک الوداع کہنے کا منظر ہے ترستی ہیں مری پوریں در و […]

تُم بہت گہری اُداسی کی وہ کیفیت ہو

جو مری رُوح پہ اک عمر سے طاری ٹھہری تُم نے جب لوحِ تنفس پہ لبوں سے لکھا حرمتِ لوح و قلم جان سے پیاری ٹھہری کون ہیں ہم کہ تری شئے پہ سوالات کریں زندگی تھی ، کہ بہر حال تمہاری ٹھہری تیری اُلجھی ہوئی سانسوں کے بطن سے پھوٹی وہ خموشی ، کہ […]

اک عہدِ گزشتہ کے کنارے پہ ٹِکا ہوں

گویا کہ میں سُولی کے سہارے پہ ٹِکا ہوں اک وحشتِ پُر خار کی وادی پہ معلق میں ہوں کہ توقع کے غبارے پہ ٹِکا ہوں سو سنگِ گراں ڈوب چکے وزن سے اپنے تنکا ہوں تبھی وقت کے دھارے پہ ٹِکا ہوں دیکھا ہے نمُو نے بھی کئی روپ بدل کر اک میں ہی […]

اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے

محبت ، کائناتی مسئلہ ہے بساطِ معجزاتِ روز و شب پر مری یہ بے ثباتی مسئلہ ہے تو کیا تم واقعی میں واقعہ ہو؟ کہ یہ بھی نفسیاتی مسئلہ ہے نزاکت، آرزُو کا حُسن ٹھہری مری بے احتیاطی مسئلہ ہے مجھے چُھو کر بتا ، ہوں کہ نہیں ہوں فقط یہ دو نکاتی مسئلہ ہے […]

کہیں بھڑکا ہوا شعلہ کہیں پر پھول فن میرا

سخن میرا جہنم ہے ، سخن باغِ عدن میرا تصور میں ہوئی روشن تری آواز کی شمع پگھلنے لگ گیا ہے موم کی صورت سخن میرا تمہاری آرزُو ، عریاں مری آغوش میں اتری نیاز و عجز سے پسپاء ہوا ہے پیرہن میرا زمانوں کے مسافر کی سبک دوشی ضروری تھی مری پرواز کے رستے […]

اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے

یوں بھی سماعتوں پہ مرے لفظ بار تھے کس کس کو رو چکا ہوں ، کسی کو کہاں خبر اس ایک شخص سے مرے رشتے ہزار تھے حسرت سے دیکھتے ہوئے گزرے حیات کو جو کم نصیب ، وقت کے رتھ پر سوار تھے تم نے تو پھونک مار دی لیکن خطوطِ دل نقشِ پسِ […]

آپ آتے تو نیا کھیل دکھایا جاتا

دل کے شیشے کو بلندی سے گرایا جاتا ہم تو راضی بہ رضا لوگ تھے فانی جو ہوئے وقت کب تھا کہ کسی ضد پہ لٹایا جاتا ہم کہ بے خوف بیابانِ جہاں سے گزرے تو میسر کبھی ہوتا تو گنوایا جاتا دل کی تزئین کو باقی ہے فقط رنگ ترا اور یہ رنگ کہیں […]

برگِ گل، شاخ ہجر کا کر دے

اے خدا! اب مجھے ہرا کر دے ہر پلک ہو نم آشنا مجھ سے میرا لہجہ بہار سا کر دے مجھ کو روشن مرے بیان میں کر خامشی کو بھی آئینہ کر دے بیٹھ جاؤں نہ تھک کے مثل غبار دشت میں صورتِ صبا کر دے میری تکمیل حرف و صوت میں ہو مجھے پابند […]