تُو نے مجھ کو حج پہ بُلایا یا اللہ میری جھولی بھردے

گِرد کعبہ خوب پھرایا یا اللہ مِری جھولی بھر دے میدانِ عرفات دکھا یا یا اللہ مِری جھولی بھر دے بخش دے ہر حاجی کو خدایا یا اللہ مِری جھولی بھر دے بہرِ کوثرو بِیرِ زم زم کردے کرم اے ربّ اکرم حشر کی پیاس سے مجھ کو بچانا یا اللہ مِری جھولی بھر دے […]

ایک الزام کے جواب میں کہی گئی نظم

!سنو، میری جاں تُم سدا ایک رَم خوردہ ، وحشت زدہ اور سراسیمہ ہرنی کی مانند ڈرتی ہو مجھ سے بدکتی ہو مجھ سے سنو، میری جاں! اور دیکھو مرے ہاتھ میں کوئی دو دھاری خنجر نہیں، میرا دل ہے مرے پاس ترکش نہیں ہے، غزل ہے خدا کی قسم، میرے رختِ سفر میں کتابوں، […]

‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں

لڑاکا لوگوں کے نام ‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں عِشق اِتنا ھے کہ ھم روز جَھگڑ بیٹھتے ہیں دو گھڑی صُلح صفائی، کئی پَل دنگا فساد کیسے معصوم ھیں ھنستے ھُوئے لَڑ بیٹھتے ہیں لاکھ ھم رُوٹھیں مگــر آپ منا لیں گے ھمیں بس اِسی مان پہ ھم آپ سے اَڑ […]

تجھے بھی اشتیاقِ دیدۂ نم ہے تو آ جا

بپا ہے محفلِ گریہ، اگر دم ہے تو آ جا رضاکارانہ سہتا ہوں میں غُصہ دِل جلوں کا ترا دل بھی کسی پیارے پہ برہم ہے تو آ جا گروہِ عاشقاں کی رُکنیت مشکل نہیں ہے ترا سب کُچھ فدائے حُسنِ جانم ہے تو آ جا عطا ہوتا ہے رزقِ غم، پھر آتی ہے یہ […]

اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو

سر چڑھ کے بولتا تھا اُس کے بدن کا جادُو قامت تھی یا قیامت، شُعلہ تھا یا سراپا پھیکا تھا اُس کے آگے سرووسمن کا جادُو آنکھوں میں تیرتے تھے ڈورے سے رتجگوں کے انگڑائی میں گُھلا تھا میٹھی تھکن کا جادُو کلیوں کے جیسے کومل تھے ہاتھ پاؤں اُس کے غُنچوں کو چھیڑتا تھا […]

اگر تُو کہے تو

اگر تُو کہے تو میں شاخِ شبِ قدر سے توڑ لاؤں چمکتے دمکتے ستاروں کے گُچھے ؟ اُنہیں اِک سنہری سبک طشتری میں رکھوں اور تجھے پیش کر دوں کہ لے ، میرے عشقِ زبوں پر یقیں کر اگر تُو کہے تو چہکتے بہشتی پرندوں پہ چُپکے سے اِک جال پھینکوں اُنہیں پھڑپھڑاتے ہوئے ہی […]

تعارف

نواحِ شہر کے اُونچے پہاڑوں میں جو خوشیاں چار سُو اُڑتی ہیں اُن کا نام بادل ہے حریم ِ صبح اور میخانۂ شب میں ،جو بے آواز رقصاں ہے وہ خوشبو ہے مہکتی ڈولتی شاخوں پہ رنگ و بُو کے جو چھینٹے نمایاں ہیں اُنہیں ہم پھول کہتے ہیں ،اور اُن پھولوں ، پہاڑیوں ، […]

سر بسر آنسو، مکمل غم ھوں میں

سر بسَر آنسُو، مُکمل غم ھُوں مَیں آپ اپنے حال کا ماتم ھُوں مَیں مُجھ سے بڑھ کے کس نے جانا ھے تُمہیں ؟ اور تُم کہتی ھو نامحرم ھُوں میں ؟ ایسے یکجا ھیں، سمجھ آتی نہیں مُجھ میں ضم ھے تُو کہ تُجھ میں ضم ھُوں مَیں ؟ ٹھوکروں کے نیل ھیں مُجھ […]

نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے

سُخن کے دشت میں خوشبو ترے خیال کی ہے زمیں سے تا بہ فلک روشنی کمال کی ہے فضا میں آج شباہت ترے جمال کی ہے نہ دیکھ بالکنی سے غُروب کا منظر جمالِ یار ! سنبھل ، یہ گھڑی زوال کی ہے ترا نہ ہونا بھی اب تو ہے تیرے ہونے سا فراق میں […]