خوشی سمیٹ کے رکھ اور غم سنبھال کے رکھ
ہوا ہے عشق میں جو کچھ بہم ، سنبھال کے رکھ یہ قیمتی ہیں ، اِنہیں یوں نے بے دریغ لُٹا ان آنسوؤں کو سرِ چشمِ نم سنبھال کے رکھ ہمیں تو خیر گنوا ہی دیا ہے تو نے مگر ہماری یاد کو تو کم سے کم سنبھال کے رکھ یہ دور عرضِ سخن کا […]