کوئی میرے اشک پونچھے ، کوئی بہلائے مجھے
یُوں نہ ہو لوگو! اُداسی راس آ جائے مجھے عشق نے ایسے سُہانے رنگ پہنائے مجھے گُل تو گُل ہیں ، چاند تارے دیکھنے آئے مجھے ربِّ گریہ بخش! تجھ کو آنسوؤں کا واسطہ دیکھ، کافی ہو چکی، اب عشق ہو جائے مجھے کیا خبر اُس کے پلٹنے تک مرا کیا حال ہو اُس سے […]